پنجاب اسمبلی کی ایک کمیٹی نے لاہور جمخانہ کو سرکاری اراضی کے کم کرائے پر دیے جانے کے معاملے کی تفصیلی جانچ کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ قیمتی سرکاری زمین کے کرائے اور لیز کے معاملات طویل عرصے تک مؤثر نگرانی اور باقاعدہ نظرثانی کے بغیر چلتے رہے، جس سے صوبائی خزانے کو ممکنہ نقصان اور انتظامی ذمہ داری سے متعلق سوالات پیدا ہوئے۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ سرکاری محکموں اور اداروں سے اصل ریکارڈ حاصل کرے، لیز کی شرائط، کرائے کے تعین اور مختلف ادوار میں ہونے والی توسیع یا تبدیلیوں کی تصدیق کرے۔ اس کے ساتھ ایسے مخصوص سوالات مرتب کرنے کا بھی کہا گیا ہے جن کی بنیاد پر یہ طے کیا جا سکے کہ کم کرایہ کس قانونی یا انتظامی طریقہ کار کے تحت برقرار رہا اور آیا وقتاً فوقتاً مارکیٹ ویلیو اور حکومتی پالیسی کے مطابق اس کا جائزہ لیا گیا تھا یا نہیں۔
اسمبلی کمیٹی نے فیکٹ فائنڈنگ عمل کے لیے دس دن کی مدت مقرر کی ہے۔ اس مدت میں دستاویزات، سرکاری فیصلوں اور ذمہ دار اداروں کے کردار کا جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کی جانی ہے۔ اس مرحلے پر کمیٹی نے کسی فرد یا ادارے کو مالی بے ضابطگی کا مرتکب قرار نہیں دیا؛ تحقیقات کا مقصد دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حقائق واضح کرنا اور ممکنہ انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
لاہور جمخانہ کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کلب شہر کے نمایاں علاقے میں وسیع سرکاری اراضی استعمال کرتا ہے اور اس کے کرائے سے متعلق سوالات ماضی میں بھی عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ سرکاری املاک کی لیز میں بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ ریاستی اثاثوں کے استعمال، مالی مفاد اور قانونی شرائط کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، تاہم کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والی بحث میں کئی دہائیوں کی نگرانی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد پنجاب اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی یہ فیصلہ کر سکے گی کہ مزید محکمانہ کارروائی، لیز شرائط میں تبدیلی، کرائے کی ازسرنو تعیین یا کسی اضافی تحقیقات کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو حتمی مالی یا قانونی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
تحقیقات کی اصل اہمیت ریکارڈ کی تصدیق میں ہوگی۔ اگر مختلف ادوار میں سرکاری محکموں نے لیز اور کرائے سے متعلق الگ فیصلے کیے تو کمیٹی کو ان کے قانونی اختیار، منظوری کے طریقہ کار اور صوبائی خزانے پر اثر کا الگ الگ جائزہ لینا ہوگا۔ دس روزہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ اسمبلی کمیٹی کن سفارشات کو آگے بڑھاتی ہے۔
