خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے صوبے میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کو عمارت کے فٹنس سرٹیفکیٹ سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد سامنے آیا، جس میں 31 طلبہ اور ایک استاد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس سانحے نے نجی اسکولوں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیصلہ خیبرپختونخوا کے گورنر کے مشیر ڈاکٹر امیر عبداللہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ مجوزہ نظام کے تحت نجی اسکول کی رجسٹریشن یا اس کے تسلسل کے لیے متعلقہ بلڈنگ کنٹرول ادارے سے عمارت کے محفوظ ہونے کی تصدیق درکار ہوگی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تعلیمی سرگرمی شروع یا جاری رکھنے سے پہلے عمارت بنیادی ساختی اور حفاظتی معیار پر پوری اترتی ہو۔
اجلاس میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے نگرانی کے کردار کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ موجودہ قانونی ڈھانچے میں مطلوبہ تبدیلیاں نافذ کرنے کے لیے خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2017 میں ترامیم درکار ہوں گی۔ اس لیے فیصلہ پالیسی سمت متعین کرتا ہے، جبکہ مکمل نفاذ کے لیے قانونی اور انتظامی مراحل ابھی باقی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سرکاری بلڈنگ کنٹرول اداروں پر غیر ضروری دباؤ یا ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کم کرنے کے لیے رجسٹرڈ نجی انجینئرنگ فرموں کو بھی فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔ اگر یہ انتظام حتمی قانون اور قواعد میں شامل ہوتا ہے تو نجی انجینئرنگ اداروں کی اہلیت، ذمہ داری اور سرٹیفکیٹ کی تصدیق کا مؤثر نظام بھی ضروری ہوگا۔
پشاور کے مہلک حادثے کے بعد عمارتوں کی ساختی سلامتی فوری پالیسی مسئلہ بن گئی ہے۔ اسکولوں میں بڑی تعداد میں بچے روزانہ کئی گھنٹے گزارتے ہیں، اس لیے چھت، دیواروں، برقی نظام، ہنگامی راستوں اور مجموعی تعمیراتی حالت کی نگرانی محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ براہ راست جان کے تحفظ سے متعلق معاملہ ہے۔
موجودہ فیصلے کو صوبے کے ہر نجی اسکول کی عمارت کے محفوظ قرار دیے جانے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ فٹنس سرٹیفکیٹ کا نظام نافذ ہونے کے بعد اصل امتحان معائنوں کے معیار، سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ماہرین کی جواب دہی اور ریگولیٹری اتھارٹی کی مستقل نگرانی کا ہوگا۔
قانونی ترامیم اور تفصیلی قواعد سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ موجودہ اسکولوں کو سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے کتنی مدت دی جائے گی، عدم تعمیل پر کیا کارروائی ہوگی اور عمارتوں کی دوبارہ جانچ کتنے وقفے سے ضروری قرار پائے گی۔ فی الحال بنیادی فیصلہ یہ ہے کہ رجسٹریشن اور عمارت کی ثابت شدہ فٹنس کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے۔
