خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس اور انسداد دہشت گردی محکمے کے سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران مسلح افراد سے فائرنگ کے تبادلے میں چار اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق شہید ہونے والوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس عمران الدین، اسٹیشن ہاؤس افسر افضل اعوان اور دو کانسٹیبل امجد اور کاظم شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق کارروائی کرک کے خرم محمد زئی علاقے میں تھانہ لتمبر کی حدود میں خفیہ اطلاع کے بعد شروع کی گئی تھی۔ سرچ آپریشن کے دوران پولیس کا نامعلوم مسلح افراد سے سامنا ہوا اور دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حکام نے چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں دو مشتبہ دہشت گردوں کے مارے جانے کا بھی بتایا گیا۔ تاہم ان دونوں ہلاکتوں سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے، اس لیے انہیں پولیس اور مقامی رپورٹس سے منسوب دعوے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچائی گئی اور سکیورٹی کارروائی جاری رکھی گئی۔ شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں سول و عسکری حکام، پولیس افسران، اہل خانہ اور مقامی افراد نے شرکت کی۔ پولیس دستے نے سلامی دی اور اعلیٰ حکام نے تابوتوں پر پھول چڑھائے۔ بعد میں میتیں تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کی گئیں۔

خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ نے شہید اہلکاروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں یاد رکھی جائیں گی۔ یہ بیانات سرکاری ردعمل ہیں اور واقعے کی تفتیشی تفصیلات سے الگ ہیں۔

اسی روز بنوں میں ایک الگ واقعہ بھی پیش آیا جہاں پولیس کے مطابق معمول کی گشت پر موجود پارٹی پر فائرنگ کے بعد سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹ گیا۔ دھماکے میں دو شہری زخمی ہوئے جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔

کرک کا واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور پولیس پر حملوں کے باعث سکیورٹی صورت حال دوبارہ قومی سطح پر توجہ کا مرکز ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر پولیس اور انسداد دہشت گردی اداروں کی نفری، تربیت اور سازوسامان بڑھانے پر بات ہو رہی ہے۔ تازہ واقعے میں حملہ آوروں کی شناخت، تنظیمی وابستگی اور مکمل آپریشنل تفصیلات سرکاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔