اسلام آباد کی ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف مبینہ آڈیو لیک سے متعلق مقدمے میں گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حکیم خان بکھر نے یہ حکم اس وقت دیا جب علی امین گنڈاپور اور مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی کے باعث استغاثہ کے گواہوں کے بیانات بھی قلم بند نہیں ہو سکے۔ عدالت نے غیر حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے اور مقدمے کی مزید کارروائی 17 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ یہ مقدمہ اسلام آباد کے گولڑہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور اس کا تعلق ایک مبینہ آڈیو لیک سے بتایا جاتا ہے۔
گرفتاری وارنٹ کا اجرا کسی الزام کے ثابت ہونے یا عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں ہوتا۔ موجودہ مرحلے پر عدالت نے بنیادی طور پر ملزم کی حاضری یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی ہے، جبکہ مقدمے کے حقائق، شواہد اور ذمہ داری سے متعلق حتمی تعین عدالتی عمل کے بعد ہی ہوگا۔ دستیاب رپورٹ میں آڈیو کے مندرجات یا الزامات کی صداقت پر کوئی حتمی عدالتی نتیجہ بیان نہیں کیا گیا۔
عدالتی کارروائی میں آئندہ اہم مرحلہ 17 اکتوبر کی سماعت ہوگی، جب عدالت ملزمان کی حاضری، وارنٹس پر عمل درآمد اور استغاثہ کے گواہوں کے بیانات سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اس وقت تک معاملہ زیر سماعت ہے اور فریقین کو قانونی طور پر اپنے مؤقف اور دفاع کا حق حاصل ہے۔
یہ خبر 23 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی ڈان کی عدالتی رپورٹ پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ وارنٹس عدم پیشی کے بعد جاری کیے گئے اور کیس مبینہ آڈیو لیک سے متعلق ہے۔

