غزہ کی پٹی میں مقامی کمیٹیوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکیں، کیونکہ اسرائیلی فوج نے سرحد کی سمت پتنگیں بھیجے جانے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ مقامی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیوں نے حماس کے حکام کے ساتھ رابطے کے بعد جاری کیا۔

اسرائیلی فوج کے بیان کو رپورٹ کرتے ہوئے ایکسپریس نے بتایا کہ فوج نے کہا ہے کہ اگر حماس سے وابستہ عناصر نے سرحد پر پتنگیں اڑانے کو کسی کارروائی کے طور پر استعمال کیا تو جواب دیا جائے گا۔ یہ اسرائیلی فوج کا مؤقف اور دھمکی ہے؛ دستیاب رپورٹ کسی نئی پتنگ سے آگ لگنے، کسی حملے کے شروع ہونے یا ذمہ داری کے حتمی تعین کی تصدیق نہیں کرتی۔

مقامی کمیٹیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کو روکنے کا مقصد ان کے بچپن کو محدود کرنا نہیں بلکہ ان کی جانوں کو ممکنہ خطرے سے بچانا ہے۔ کمیٹیوں نے تسلیم کیا کہ غزہ کے بچے پہلے ہی محفوظ کھیل اور معمول کی زندگی کے بنیادی مواقع سے محروم ہیں، تاہم موجودہ حالات میں پتنگ کا منظر بھی فوجی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔ والدین کو اسی خطرے کے پیش نظر احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔

رپورٹ میں 2018 کے واقعات کا پس منظر بھی دیا گیا ہے، جب غزہ سے آتش گیر غبارے اور پتنگیں سرحد پار بھیجے گئے تھے اور اسرائیلی علاقوں میں کھیتوں اور کھلے میدانوں میں آگ لگی تھی۔ اس وقت فلسطینی شرکا نے ان اقدامات کو ناکہ بندی کے خلاف احتجاج قرار دیا تھا۔ موجودہ انتباہ کو اسی سابقہ طریقۂ احتجاج کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے، لیکن نئی رپورٹ میں کسی تازہ آتش گیر پتنگ کے استعمال کی تصدیق نہیں ہے۔

غزہ میں شہری آبادی، خصوصاً بچوں، کے لیے اس دھمکی کا بنیادی پہلو تحفظ ہے۔ کسی بھی مبہم سرگرمی کو جنگی کارروائی سمجھ لینے کا خدشہ شہریوں کے لیے غیر معمولی خطرہ پیدا کرتا ہے۔ مقامی کمیٹیوں کی ہدایت اسی فوری خطرے کو کم کرنے کی کوشش ہے، جبکہ کسی حملے، نقصان یا خلاف ورزی کے بارے میں آئندہ دعووں کو الگ شواہد سے جانچنا ضروری ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک