واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نئے H-1B ویزوں پر 103,265 ڈالر فیس کو مستقل ضابطے کی شکل دینے کی تجویز جاری کردی ہے۔ ڈان پر شائع رائٹرز کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ فیس انتہائی ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کے نئے ویزوں سے متعلق ہے اور ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق کے شعبوں پر اس کے نمایاں اثرات ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ سال ایک عارضی صدارتی اعلان کے ذریعے ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ فیس نافذ کی تھی، جس سے H-1B ویزا کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ تاہم جون میں ایک وفاقی جج نے اس فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو اس کی وصولی سے روک دیا۔ بوسٹن کی ایک اپیل عدالت اس فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ ایک الگ مقدمے میں واشنگٹن ڈی سی کے جج کے فیصلے کو بھی جانچا جارہا ہے۔

گزشتہ سال جاری ہونے والا صدارتی اعلان ستمبر میں اپنی ایک سالہ مدت مکمل کرے گا۔ اسی اعلان میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو ہدایت دی گئی تھی کہ فیس کو مستقل بنانے کے لیے ضابطہ تیار کیا جائے۔ اب محکمے نے 103,265 ڈالر کی تجویز فیڈرل رجسٹر میں آن لائن پیش کی ہے، جسے باضابطہ اشاعت کے بعد 30 روزہ عوامی تبصرے کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔

مجوزہ قاعدہ ابھی حتمی قانون یا نافذ شدہ مستقل فیس نہیں ہے۔ رائٹرز کے مطابق اسے سال کے اختتام تک حتمی شکل دی جاسکتی ہے، لیکن عوامی رائے، انتظامی جائزے اور جاری عدالتی کارروائی اس کے وقت اور حتمی شکل کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو پالیسی تجویز کہنا زیادہ درست ہے۔

H-1B پروگرام امریکی اداروں کو مخصوص مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکن بھرتی کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ جامعات و تحقیقی ادارے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ بہت زیادہ فیس نئی درخواستوں کی لاگت بڑھا سکتی ہے، مگر ہر درخواست دہندہ یا موجودہ ویزا ہولڈر پر یکساں اثر کی تفصیل حتمی ضابطے کے متن اور قانونی فیصلوں پر منحصر ہوگی۔

یہ خبر ڈان پر شائع رائٹرز رپورٹ کی براہ راست جانچ کے بعد تیار کی گئی ہے۔ مجوزہ فیس، سابق عارضی اقدام، عدالتی رکاوٹ، اپیل اور عوامی تبصرے کے مراحل کو الگ رکھا گیا ہے؛ کسی زیر التوا درخواست کے بارے میں انفرادی قانونی مشورہ یا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک