امریکا کی کئی بڑی جامعات نے بیرون ملک موجود بین الاقوامی طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 15 ستمبر سے پہلے واپس پہنچ جائیں، کیونکہ اس تاریخ سے نئے وفاقی امیگریشن قواعد نافذ ہونے کی توقع ہے۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی واشنگٹن رپورٹ کے مطابق ہارورڈ، کولمبیا، اوہائیو اسٹیٹ، جارج ٹاؤن، جارج واشنگٹن اور شکاگو یونیورسٹی سمیت اداروں نے ایف ون اور جے ون حیثیت رکھنے والے طلبہ و اسکالرز کو سفر اور داخلے کی نئی شرائط کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیا نظام طویل عرصے سے رائج مدتِ حیثیت، یعنی ڈوریشن آف اسٹیٹس، کی جگہ مقررہ داخلہ مدت متعارف کرائے گا۔ امریکا میں داخل یا دوبارہ داخل ہونے والے کئی طلبہ کو فارم آئی 94 پر ایک واضح آخری تاریخ مل سکتی ہے، جبکہ ابتدائی اجازت عام طور پر تعلیمی پروگرام کی مدت سے منسلک اور زیادہ سے زیادہ چار سال تک ہوگی۔ پروگرام مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت درکار ہو تو طلبہ کو امریکی شہریت و امیگریشن سروسز سے توسیع مانگنا پڑ سکتی ہے۔
ہارورڈ کے بین الاقوامی دفتر نے طلبہ اور اسکالرز کو 15 ستمبر تک امریکا میں جسمانی طور پر موجود ہونے کی منصوبہ بندی کرنے کا کہا، جبکہ کولمبیا نے منتقلی کے لیے وقت رکھتے ہوئے 8 ستمبر کی پہلے کی ہدف تاریخ دی۔ دوسری جامعات نے پاسپورٹ، ویزا، فارم آئی 20 یا ڈی ایس 2019 اور آئی 94 ریکارڈ چیک کرنے، سفر پر دوبارہ غور کرنے اور اپنے بین الاقوامی طلبہ دفتر سے رابطہ رکھنے کی ہدایت کی۔
ڈان کے مطابق 15 ستمبر کو پہلے سے امریکا میں موجود اور اپنی ایف ون یا جے ون حیثیت برقرار رکھنے والے طلبہ کے لیے عبوری قواعد نسبتاً کم خلل ڈال سکتے ہیں۔ البتہ اس تاریخ کے بعد ملک سے باہر جا کر دوبارہ داخل ہونے والوں کو مقررہ آخری تاریخ والا نیا داخلہ مل سکتا ہے۔ نئے قواعد پروگرام یا ادارہ تبدیل کرنے، اضافی تعلیمی وقت لینے اور اختیاری عملی تربیت، یعنی او پی ٹی یا اسٹیم او پی ٹی، کی منصوبہ بندی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں گریس پیریڈ کو پروگرام مکمل ہونے کے بعد موجودہ 60 دن سے گھٹا کر عام طور پر 30 دن کرنے کا ذکر ہے۔ یہ تبدیلی ڈاکٹریٹ، طبی یا دوسرے طویل پروگراموں میں زیر تعلیم افراد کے لیے خاص اہمیت رکھ سکتی ہے۔ تاہم ہر طالب علم کی حیثیت ویزا زمرے، داخلے کے ریکارڈ، پروگرام اور سفر کی تاریخ کے مطابق مختلف ہوگی؛ عمومی خبر کو ذاتی قانونی مشورہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
نئی پالیسی کو وفاقی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے اور اعلیٰ تعلیمی و محنت کش تنظیموں کے اتحاد نے ابتدائی حکم امتناع مانگا ہے۔ جب تک عدالت نفاذ روک یا مؤخر نہ کرے، جامعات طلبہ کو 15 ستمبر کی تاریخ برقرار سمجھ کر تیاری کا مشورہ دے رہی ہیں۔ اردو ہیڈ لائنز کسی عدالتی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتا؛ طلبہ کو اپنی یونیورسٹی اور مستند امیگریشن ذرائع سے انفرادی صورت حال کی تصدیق کرنی چاہیے۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




