ڈلاس: امریکن ایئرلائنز کی پرواز 2398 میں دورانِ سفر ایک مسافر کے لیپ ٹاپ سے دھواں اٹھنے اور پھر آگ لگنے کے بعد طیارہ ڈلاس فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق واقعے میں کم از کم چار افراد کے ہاتھ جھلسنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ بعض رپورٹس میں متاثرہ مسافروں کی تعداد چار سے پانچ بتائی گئی۔

ایئرپورٹ حکام نے کم از کم ایک مسافر کو طبی امداد دیے جانے اور بعد میں اسے فارغ کرنے کی تصدیق کی۔ مختلف ابتدائی اعداد میں فرق کی وجہ سے خبر میں چار افراد کو قطعی حتمی تعداد کے بجائے کم از کم اطلاع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی شخص کے شدید زخمی ہونے، اسپتال میں داخل رہنے یا جان کے خطرے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پرواز اٹلانٹا سے ڈلاس فورٹ ورتھ جا رہی تھی اور اس میں تقریباً 133 افراد سوار تھے۔ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے طیارے کے پچھلے حصے میں موجود ایک لیپ ٹاپ سے دھواں اٹھا اور آگ بھڑک گئی۔ پائلٹ نے فضائی نگرانی کے عملے کو کیبن میں آگ کی اطلاع دی، جبکہ فضائی میزبانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جلتے آلے کو حرارت روکنے والے خصوصی بیگ میں محفوظ کیا۔

رپورٹ کے مطابق عملے نے چند منٹ میں آگ پر قابو پا لیا۔ طیارے کے اترنے تک ڈلاس فورٹ ورتھ ایئرپورٹ پر ہنگامی عملہ تیار تھا، مگر پرواز محفوظ انداز میں لینڈ کر گئی۔ خبر میں ہنگامی انخلا، طیارے کے بڑے نقصان یا دوسری پرواز میں منتقلی کی تفصیل موجود نہیں، اس لیے ایسے کسی واقعے کا اضافہ نہیں کیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات میں آگ کو لیپ ٹاپ کی لیتھیم آئن بیٹری سے جوڑا گیا ہے۔ ایسی بیٹری خراب ہونے یا غیرمعمولی طور پر گرم ہونے پر دھواں اور آگ پیدا کر سکتی ہے، مگر اس مخصوص آلے کی حتمی تکنیکی جانچ کا نتیجہ رپورٹ میں شامل نہیں۔ اس لیے بیٹری کو ثابت شدہ آخری سبب قرار دینے کے بجائے ابتدائی امکان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ واقعہ فضائی عملے کی فوری حفاظتی کارروائی اور بیٹری والے آلات کی احتیاط سے نگرانی کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک