نئی دہلی: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ بھارت میں قومی میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے کے افشا ہونے کے بعد شروع ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی۔ ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق حقوق کے ادارے کی تحقیق پولیس کے اس مؤقف سے متصادم ہے کہ طاقت صرف اس وقت استعمال کی گئی جب مظاہرین پرتشدد ہوئے۔

احتجاج 20 جولائی کو نئی دہلی میں اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ ایمنسٹی نے کہا کہ اس نے گواہوں کے بیانات اور بصری مواد کی جانچ کی، جس سے دہلی اور مشرقی ریاست بہار میں پیلٹ فائر کرنے والی بندوقوں، آنسو گیس کے آلات، گرینیڈ، لاٹھیوں اور برقی جھٹکے کے آلات کے استعمال کی تصدیق ہوئی۔ یہ ایمنسٹی کی تحقیق کا نتیجہ ہے اور خبر میں اسی ادارے کی نسبت سے پیش کیا جا رہا ہے۔

ادارے نے بہار کے ضلع سیوان میں ایک پولیس افسر کی جانب سے ہجوم پر مبینہ طور پر مہلک طاقت کے غیرقانونی استعمال کے دو واقعات کی تصدیق کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ان واقعات میں کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی۔ ایمنسٹی کے مطابق ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قانون، معیار اور ملکی پولیس رہنما اصولوں سے متصادم انداز میں کیا گیا۔ اس نے مظاہرین کی جانب سے پتھر پھینکنے کے الگ تھلگ واقعات تسلیم کیے، لیکن مجموعی پولیس ردعمل کو غیرمتناسب قرار دیا۔

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کی سماعت میں کہا کہ طاقت اس وقت استعمال ہوئی جب مظاہرین تشدد پر اتر آئے۔ پولیس کے مطابق خود کو متاثرہ طالب علم ظاہر کرنے والے شرپسند عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں کو شدید زخمی کیا۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے پولیس اور مظاہرین، دونوں کی جانب سے تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک پینل قائم کیا ہے، اس لیے ایمنسٹی اور پولیس کے متضاد بیانات کا حتمی قانونی تعین ابھی باقی ہے۔

اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے ایک 19 سالہ مظاہرہ کنندہ کے ساتھ دہلی پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا، جس کا کہنا تھا کہ وہ 20 جولائی کے احتجاج میں پیلٹس سے زخمی ہوا۔ راہول نے تحقیقات کا مطالبہ کیا اور پولیس نے بعد میں شکایت پر مقدمہ درج کیا۔ آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں شروع ہونے والا احتجاج امتحانی بے ضابطگیوں سے بڑھ کر بے روزگاری، نوجوانوں کے مواقع اور حکومتی طرزِعمل کے سوالات تک پھیل گیا۔ خبر میں لگائے گئے الزامات، پولیس کا جواب اور عدالتی تحقیقات الگ الگ واضح کیے گئے ہیں؛ کسی الزام کو حتمی فیصلہ نہیں کہا گیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک