لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں یوکرین کے دارالحکومت کیف جائیں گے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق دورے کا مقصد یوکرین کے لیے برطانوی حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔ یہ خبر اعلان کردہ دورے سے متعلق ہے؛ ملاقاتیں ابھی ہونے والی ہیں اور ان کے نتائج پہلے سے طے شدہ کامیابی کے طور پر پیش نہیں کیے جا رہے۔
رپورٹ میں بی بی سی کے حوالے سے بتایا گیا کہ برنہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔ وہ سابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے دور میں فرانس اور برطانیہ کی جانب سے قائم کردہ رضامند ممالک کے اتحاد کے اپنے پہلے اجلاس کی صدارت بھی کریں گے۔ دستیاب خبر میں اجلاس کے مکمل شرکا، باقاعدہ ایجنڈے یا کسی نئی مالی و عسکری امداد کی رقم کی تفصیل نہیں دی گئی۔
ایکسپریس کے مطابق توقع ہے کہ برطانوی وزیر اعظم یوکرین کی جانب سے برطانیہ کی حمایت کے اعتراف میں برطانوی عوام کے نام ایک اعزاز بھی قبول کریں گے۔ یہ متوقع پروگرام کا حصہ بتایا گیا ہے، مگر خبر میں اعزاز کی مکمل قانونی نوعیت یا تقریب کا تفصیلی شیڈول موجود نہیں۔ اسی لیے اسے ایک طے شدہ سفارتی علامت کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ کسی نئے دو طرفہ معاہدے کے طور پر۔
اینڈی برنہم نے یوکرین کی آزادی کی پینتیسویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ یوکرینی عوام کو برطانیہ کی حمایت پر شک نہیں ہونا چاہیے اور یہ ساتھ جتنا وقت درکار ہو جاری رہے گا۔ انہوں نے روس کے لیے بھی پیغام دیا کہ برطانیہ منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام تک اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ الفاظ برطانوی وزیر اعظم کے سیاسی اور سفارتی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں؛ کسی جنگی نتیجے یا مذاکراتی پیش رفت کی آزاد تصدیق نہیں۔
کیف کا انتخاب پہلے غیر ملکی دورے کے لیے برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں یوکرین کی ترجیح کو نمایاں کرتا ہے۔ تاہم دورے کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان، نئے وعدوں یا اتحادی اجلاس کے فیصلوں کو الگ طور پر دیکھنا ہوگا۔ موجودہ رپورٹ صرف سفر کے اعلان، متوقع ملاقات، اجلاس کی صدارت اور برنہم کے بیان کی تصدیق کرتی ہے؛ کسی ایسے معاہدے کا دعویٰ نہیں کرتی جس کا متن ابھی سامنے نہیں آیا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




