ایران نے تجارتی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس کے نقل و حمل کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو دوبارہ گزرنے کی کوشش پر مالی جرمانے، حراست یا ضبطی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ ایران کی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی سے منسوب بیان میں سامنے آیا۔ یہ ایران کا اعلان ہے؛ رپورٹ میں کسی مخصوص نئے جہاز کی عملی ضبطی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تہران ان بحری جہازوں کی جانچ کا دائرہ بڑھا رہا ہے جن پر پہلے قواعد توڑنے کا الزام ہے۔ اتھارٹی نے خلیجی ریاستوں میں یا وہاں سے سامان لے جانے والی کمپنیوں کو مشورہ دیا کہ کسی جہاز کو چارٹر کرنے سے پہلے ایرانی رجسٹر میں اس کی حیثیت دیکھیں۔ اس ہدایت کا مقصد آپریٹرز کو ممکنہ جرمانے یا حراست کے خطرے سے پہلے آگاہ کرنا بتایا گیا ہے۔
ایرانی اتھارٹی کے مطابق جانچ صرف پہلے سے درج جہاز تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے جہازوں، جہاز سے جہاز منتقلی، ٹرانس شپمنٹ اور متعلقہ بحری سرگرمیوں تک پھیل سکتی ہے۔ رپورٹ نے اس پالیسی کو آبنائے کے نیوی گیشن انتظامات پر امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار بات چیت اور تجارتی آپریٹرز پر بڑھتے دباؤ کے پس منظر میں رکھا۔ تاہم کسی بین الاقوامی معاہدے کی نئی مکمل قانونی متن یا امریکی جواب خبر میں شامل نہیں تھا۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک توانائی اور دوسرے سامان کی نقل و حرکت کے لیے اہم راستہ ہے۔ جہازوں کی حراست، راستے کی تاخیر یا ضابطہ جاتی بے یقینی بیمہ، مال برداری اور ترسیل کے فیصلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہر انتباہ لازماً راستہ بند ہونے یا تمام جہازوں کی آمدورفت رکنے کے برابر نہیں؛ عملی اثر نفاذ، متعلقہ جہاز کی حیثیت اور کمپنیوں کے ردعمل پر منحصر ہوگا۔
اس خبر میں خلاف ورزیوں کے مکمل معیار، رجسٹر میں موجود جہازوں کی تعداد یا اپیل کے طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے اردو ہیڈ لائنز کسی مخصوص کمپنی یا جہاز کو خلاف ورزی کا مرتکب نہیں کہہ رہا۔ کسی جہاز کے خلاف آئندہ اقدام سامنے آئے تو اس کی شناخت، مقام، قانونی بنیاد اور متعلقہ فریق کا جواب الگ سے جانچنا ضروری ہوگا۔
موجودہ قابل تصدیق پیش رفت ایران کی اتھارٹی کا انتباہ اور شپنگ کمپنیوں کو رجسٹر چیک کرنے کی ہدایت ہے۔ اسے فوری ضبطی یا آبنائے کی مکمل بندش کے دعوے میں تبدیل کرنا ماخذ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ مزید سرکاری بحری نوٹس یا معتبر خبررساں تصدیق آنے پر اسی واقعے میں مادی اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




