گلگت: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے ترمیم شدہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے بعد خطے میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے التوا کے شکار بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔ قانون کی منظوری بدھ کے روز ڈپٹی اسپیکر ملک کفایت الرحمٰن کی زیر صدارت اجلاس میں دی گئی، جس کی تفصیلات جمعرات 15 اکتوبر کو سامنے آئیں۔
بلدیاتی امور کے وزیر ذوالفقار علی مراد نے ترمیم شدہ مسودہ ایوان میں پیش کیا۔ اس سے پہلے اسمبلی نے قانون منظور کیا تھا لیکن گورنر سید مہدی شاہ نے بعض شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے دوبارہ غور کے لیے واپس بھیج دیا تھا۔ وزیر کے مطابق گورنر کے اعتراضات دور کرنے اور گلگت بلتستان کابینہ سے نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری لینے کے بعد اسے دوبارہ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
اپوزیشن ارکان نے مسودہ پڑھنے اور اس پر غور کے لیے مزید وقت مانگا۔ تاہم حکومتی ارکان کی اکثریت نے قانون کے حق میں رائے دی اور ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کے اعتراض کے باوجود منظوری کا اعلان کر دیا۔ اس مرحلے پر اسمبلی کی منظوری کو انتخابات کے انعقاد کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اگلے قانونی اور انتظامی مراحل ابھی باقی ہیں۔
نئے قانون کے تحت گلگت، اسکردو اور چلاس میں میونسپل کارپوریشنز قائم کی گئی ہیں۔ ان اداروں کے منتخب ارکان میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کریں گے۔ مختلف اضلاع میں یونین کونسلوں اور ضلعی کونسلوں کا نظام بھی رکھا گیا ہے۔ بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے 17 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر پہلے بھی اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے دو اگست کی تاریخ مقرر کی تھی، لیکن وزیراعلیٰ سے مشاورت نہ ہونے اور انتخابات پرانے 2014 کے قانون یا نئے 2026 کے قانون کے تحت کرانے کے معاملے پر تنازع پیدا ہوا۔ بعد میں الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کر دیے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گورنر کے ترمیم شدہ بل پر دستخط کے بعد نئی انتخابی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
اسی اجلاس میں اسمبلی نے گلگت بلتستان انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے قیام کا الگ بل بھی متفقہ طور پر منظور کیا۔ وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بورڈ انٹرنیٹ رابطوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری خدمات، ٹینڈرنگ اور ٹیکس وصولیوں کو آن لائن منتقل کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
بلدیاتی قانون کی منظوری مقامی نمائندگی کی بحالی کی جانب ایک اہم قانون سازی ہے، تاہم ووٹنگ کے انعقاد اور منتخب اداروں کے عملی قیام کا انحصار گورنر کی منظوری، نئے شیڈول اور انتظامی تیاریوں پر ہوگا۔
