پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات 15 اکتوبر کو ایک نجی تعلیمی ادارے کی چھت گرنے کے نتیجے میں 32 طلبہ اور ایک خاتون استاد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے مقامی اخبار ڈان کو بتایا کہ مرنے والوں کی مجموعی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں سات سے چودہ سال کے درمیان تھیں۔

یہ حادثہ شہر کے آفریدی آباد علاقے میں واقع الخیر اسکول میں اس وقت پیش آیا جب بچے کلاسوں میں موجود تھے۔ حکام کے مطابق بالائی حصے کی چھت نیچے موجود کمروں پر آ گری اور عمارت کی دو منزلیں متاثر ہوئیں۔ ملبے تلے پھنسے بچوں کو نکالنے کے لیے امدادی ٹیموں، پولیس اور مقامی افراد نے کارروائی کی۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر نے بتایا کہ امدادی آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور جائے حادثہ پر ملبے کی صفائی بھی کر دی گئی ہے۔

اسپتال کے ترجمان کے مطابق بیس زخمی بچوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال لایا گیا، جن میں سے بیشتر کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔ سر پر شدید چوٹیں آنے والے تین بچے زیر علاج تھے۔ ریسکیو حکام کی جانب سے مجموعی زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ بتائی گئی ہے، اس لیے اسپتال میں لائے گئے مریضوں کی تعداد کو تمام زخمیوں کی حتمی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔

پشاور کے پولیس سربراہ ڈاکٹر میاں سعید احمد نے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر عمارت کے ڈھانچے کو کمزور قرار دیا اور کہا کہ کمزور ساخت پر اضافی تعمیراتی بوجھ چھت گرنے کا سبب بنا۔ تاہم واقعے کی مکمل ذمہ داری اور تعمیراتی قواعد کی ممکنہ خلاف ورزی کا تعین باقاعدہ تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور صوبے کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا حفاظتی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے بھی متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کے علاج اور واقعے کی تحقیقات پر زور دیا۔

یہ سانحہ تعلیمی عمارتوں میں تعمیراتی معیار، نگرانی اور بچوں کے تحفظ کے سوالات کو ایک مرتبہ پھر سامنے لے آیا ہے۔ حکام کی جانب سے اعلان کردہ حفاظتی جانچ اور تحقیقات کے نتائج واضح کریں گے کہ حادثے سے پہلے کون سے خطرات موجود تھے اور ان سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں نے کیا اقدامات کیے تھے۔