اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے تفویض اختیارات کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں پر بڑے پیمانے پر اخراجات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ارکان نے تعلیم اور صحت سے متعلق ان وفاقی وزارتوں کے اخراجات پر سوال اٹھایا جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی دائرہ اختیار میں آنے والے شعبوں سے منسلک ہیں۔ زیر بحث رقم تقریباً 2.6 ٹریلین یعنی 2600 ارب روپے بتائی گئی ہے۔
ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ گزشتہ سولہ برس میں وفاقی سطح پر متعلقہ شعبوں کے لیے منظور اور خرچ کی گئی رقوم کس آئینی اور قانونی اختیار کے تحت استعمال ہوئیں۔ کمیٹی کے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ عوامی وسائل کی تقسیم اور ان کے استعمال کی نگرانی پارلیمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
چیئرمین نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت متعدد امور صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے، اس لیے ان پر وفاقی اخراجات کی قانونی حیثیت کی وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کمیٹی کو پہلے طلب کردہ تفصیلات مقررہ مدت میں فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات ہیں؛ فی الحال کسی عدالتی یا آڈٹ فیصلے میں تمام اخراجات کو غیر قانونی قرار دینے کی اطلاع نہیں دی گئی۔
اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے نمائندوں نے وضاحت کی کہ آڈٹ کا عمل مجاز پارلیمانی فورم سے منظور شدہ بجٹ اور اس میں مختص رقوم کی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے آڈٹ کے دائرہ کار سے متعلق بعض عملی حدود کا بھی ذکر کیا۔ چیئرمین نے جواب میں کہا کہ صرف بجٹ کی منظوری کافی نہیں، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ خرچ آئینی طور پر متعلقہ حکومت کی ذمہ داری کے اندر آتا ہے یا نہیں۔
کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 169 اور آڈیٹر جنرل سے متعلق قانون کے تحت مالی نگرانی کی ذمہ داریوں پر زور دیا۔ چیئرمین کے مطابق وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے رقوم کے استعمال کے لیے اس امر کی جانچ ہونی چاہیے کہ اخراجات وفاقی ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ متعلقہ حکام کو مکمل دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ آڈیٹر جنرل کے نمائندوں نے مطلوبہ معلومات دو ہفتوں کے اندر فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری بھی زیر بحث آئی۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ بجلی کی تقسیم سے متعلق معاملات میں صوبائی مفادات اور آئینی اختیارات کی تقسیم کا کس حد تک خیال رکھا گیا ہے۔ اس موضوع پر بھی مزید وضاحت اور ریکارڈ کی ضرورت ظاہر کی گئی۔
اس پارلیمانی کارروائی کا فوری نتیجہ تحقیقات اور معلومات کی فراہمی کا مطالبہ ہے، نہ کہ کسی مخصوص سرکاری اہلکار یا ادارے کے خلاف ثابت شدہ بدعنوانی کا فیصلہ۔ ریکارڈ آنے کے بعد کمیٹی کے لیے یہ جانچنا ممکن ہوگا کہ اخراجات کس مد میں ہوئے، کن اداروں نے منظوری دی اور آڈٹ کے دوران کیا اعتراضات سامنے آئے۔
