مسلسل اپ ڈیٹس

وفاقی اخراجات کی تحقیق — اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل شعبوں پر سینیٹ کی جانچ

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے تفویض اختیارات کی ذیلی کمیٹی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیے جانے والے شعبوں (مثلاً تعلیم اور صحت) پر وفاقی سطح پر کیے گئے نزدیکِ مقدار 2.6 ٹریلین (2600 ارب) روپے کے اخراجات کی آئینی بنیاد، منظوری اور آڈٹ ریکارڈ طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذیلی کمیٹی اجلاس چیئرمین سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی صدارت میں ہوا جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ گزشتہ سولہ برس میں منظور اور خرچ کی گئی رقوم کن قانونی اختیارات کے تحت استعمال ہوئیں۔ آڈیٹر جنرل کے نمائندوں نے کہا کہ آڈٹ پارلیمانی طور پر منظور شدہ بجٹ اور مختص رقوم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور انہوں نے دو ہفتوں میں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ اجلاس میں بجلی کی تقسیم کی مجوزہ نجکاری اور صوبائی اختیارات کے تحفظ کے حوالہ سے بھی ریکارڈ مانگا گیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ مطالعاتی اقدام معلومات اور آڈٹ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ہے، نہ کہ فوری طور پر کسی حکومتی افسر یا ادارے کے خلاف بدعنوانی کا حتمی فیصلہ۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

وفاقی اخراجات کی تحقیق — اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل شعبوں پر سینیٹ کی جانچ | اردو ہیڈ لائنز