اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جمعرات کو خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق دو قراردادوں پر بحث ہوئی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل اجلاس میں حکومتی نمائندوں نے اقدامات کے آئینی اور سکیورٹی جواز پیش کیے جبکہ اپوزیشن نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے صوبائی خودمختاری، دہشت گردی اور سیاسی مذاکرات کے معاملات اٹھائے۔
اجلاس کے آغاز میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے مشترکہ اجلاس کے قواعد کی بعض ذیلی شقیں معطل کرنے کی تحریک پیش کی تاکہ متعلقہ قراردادیں پیش کی جاسکیں۔ اپوزیشن کے احتجاج کے بعد ارکان کو کھڑا کرکے رائے شماری کرائی گئی اور تحریک 214 ووٹوں کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ یہ ووٹنگ قواعد معطل کرنے کی تحریک پر تھی؛ اسے دونوں بنیادی قراردادوں کی حتمی منظوری کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس کے بعد ایک قرارداد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور دوسری آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج سے متعلق پیش کی گئی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں انتظامی امور چلانے کے لیے خصوصی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومت کو بار بار دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے کا کہا گیا مگر مطلوبہ تعاون سامنے نہیں آیا۔
تحریک انصاف کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومتی الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبائی حکومت اور اس کے نمائندوں کو دہشت گردوں کا حامی قرار دینا قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خاتمے کے حق میں ہے، لیکن صوبے میں ایمرجنسی کے فیصلے کو قبول نہیں کرتی۔ یہ بیانات فریقین کے سیاسی مؤقف ہیں، کسی عدالتی فیصلے میں ثابت شدہ نتائج نہیں۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے صوبے کی صورت حال کو حکمرانوں کے غلط فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا اور غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی کے بارے میں سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اختیار اور دہشت گردی کے خاتمے جیسے معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اسپیکر ایاز صادق اور اچکزئی کے درمیان اجلاس چلانے کے انداز پر بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے زور دیا کہ آئین اور مکالمے کو مرکزی اہمیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ان کی جماعت کے لیے ایک سرخ لکیر ہے، لیکن کسی غیر آئینی ایمرجنسی کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کے باوجود مشترکہ راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ آئینی طریقہ کار کے تحت ان اقدامات کے پارلیمانی جائزے اور منظوری کی الگ شرائط ہیں۔ جمعرات کی کارروائی کے دوران پیش کی گئی قراردادوں اور ان پر جاری بحث کو حتمی نتیجہ سمجھنے کے بجائے اس وقت تک انتظار کرنا ضروری ہے جب تک اجلاس کا قطعی فیصلہ سامنے نہ آجائے۔
