مسلسل اپ ڈیٹس

وفاقی حکومت کی خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے ممکنہ نفاذ پر مشاورت

وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں حکمران اتحادی جماعتوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے آئینی اختیارات اور شرائط پر مشاورت تیز کی۔ وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزراء کے درمیان ملاقاتیں، وفاقی کابینہ و پارلیمانی اجلاس بلانے کی تیاری اور متعلقہ آئینی شقوں (آرٹیکل 232، 233، 234) کا حوالہ رپورٹ میں شامل ہیں۔ کچھ سیاسی رہنماؤں اور اپوزیشن نے کشیدگی کم کرنے کی بات بھی کی؛ تاحال کسی حتمی سرکاری اعلان یا ایمرجنسی/گورنر راج کے نفاذ کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

3 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج زیر غور، وفاقی حکومت کی آئینی مشاورت تیز
پاکستان

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج زیر غور، وفاقی حکومت کی آئینی مشاورت تیز

وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران حکمران اتحادی جماعتوں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے آئینی امکانات پر غور کیا ہے؛ تاحال نافذ کرنے کا حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

11 اکتوبر، 2026
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بحث کے دوران وزیراعظم کی صدر زرداری سے ملاقات، پارلیمان کے اجلاس طلب کرنے پر اتفاق
پاکستان

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بحث کے دوران وزیراعظم کی صدر زرداری سے ملاقات، پارلیمان کے اجلاس طلب کرنے پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے ملک کی سیاسی و سلامتی صورت حال پر گفتگو کی اور 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی و سینیٹ کے الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر حکومتی مشاورت جاری ہے، تاہم کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

10 اکتوبر، 2026
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی زیر غور، وفاق نے مشاورت مکمل کر لی: طارق فضل چوہدری
پاکستان

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی زیر غور، وفاق نے مشاورت مکمل کر لی: طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے معاملے پر حکومت کی مشاورت مکمل ہے، لیکن صوبائی حکومت کے تعاون اور صورت حال کی بنیاد پر آئندہ فیصلہ ہوگا؛ کسی حتمی تاریخ یا اجلاس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

10 اکتوبر، 2026