اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ 10 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سلامتی کی صورت حال زیر بحث آئی۔ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت حکومت کے درمیان انسداد دہشت گردی کی پالیسی اور انتظامی تعاون پر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

ایوان صدر کے بیان کے مطابق اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم کے ساتھ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ شریک تھے۔ پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور نوید قمر بھی ملاقات میں موجود تھے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اختلافات کا ایک اہم پہلو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور صوبائی سطح پر تعاون کا معاملہ ہے۔ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اسے خیبر پختونخوا سے متعلق سلامتی کے فیصلوں میں مناسب طور پر شامل نہیں کیا جا رہا، جبکہ وفاق اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے اور صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ دونوں فریقوں کے متضاد سیاسی مؤقف ہیں، انہیں کسی عدالتی یا غیرجانبدار تحقیق کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی سمیت مختلف امکانات پر مشاورت ہو رہی ہے، تاہم اس اقدام کو حکومت آخری چارہ کار سمجھتی ہے۔ ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق گفتگو میں وفاق اور خیبر پختونخوا کے مابین تناؤ کم کرنے پر بات ہوئی۔ جے یو آئی ف کے ترجمان نے بتایا کہ فضل الرحمان تحریک انصاف کی قیادت سے بھی رابطے میں رہے ہیں۔

سیاسی رابطوں اور پارلیمانی اجلاسوں کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ صوبائی سلامتی سے متعلق اختلافات اب وفاق اور صوبے کے آئینی تعلقات سے بھی جڑ رہے ہیں۔ فی الحال مذاکرات، پارلیمانی بحث اور حکومتی مشاورت الگ الگ مراحل ہیں؛ کسی ممکنہ آئینی اقدام کو نافذ شدہ حکم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔