نوابشاہ: سندھ کے ضلع سانگھڑ میں منگلی کے قریب ایک تالاب میں ڈوبنے سے تین کم عمر بچیاں جاں بحق ہوگئیں۔ ان میں دو بہنیں بھی شامل تھیں۔ واقعہ جمعہ کو پیش آیا اور مقامی لوگوں نے تینوں کی لاشیں پانی سے نکال کر سول اسپتال سانگھڑ منتقل کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ڈان کی دس اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق بچیوں کی شناخت پندرہ سالہ عائشہ، اس کی بارہ سالہ بہن بان بی بی اور گیارہ سالہ مروہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ متعلقہ حکام نے ابتدائی تفصیلات میں بتایا کہ ایک بچی پھسل کر تالاب میں جاگری، جس کے بعد دوسری دو بچیاں اسے بچانے کے لیے پانی میں اتریں۔ تاہم تینوں ڈوب گئیں اور انہیں زندہ نہیں نکالا جا سکا۔

حادثے کی خبر سامنے آنے پر مقامی دیہاتیوں نے پانی سے لاشیں نکالنے میں مدد کی۔ بعد میں لاشوں کو سول اسپتال سانگھڑ لے جایا گیا۔ دستیاب اطلاع میں اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی گئی کہ تالاب کی گہرائی کتنی تھی، اس کے گرد کوئی حفاظتی انتظام تھا یا بچیوں کے ساتھ کوئی بالغ فرد موجود تھا۔ ان تفصیلات کے بارے میں اندازے لگانے کے بجائے انتظامیہ کی رپورٹ کا انتظار کرنا ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ضلعی حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔ یہ رپورٹ طلب کرنا واقعے کی سرکاری سطح پر توجہ کا ثبوت ہے، تاہم اسے پہلے ہی کسی مخصوص شخص یا ادارے کے خلاف غفلت ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر واقعے کی مزید تحقیقات کی جاتی ہیں تو ان سے حادثے کے حالات اور ممکنہ حفاظتی کمزوریوں کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔

دیہی آبادیوں میں تالاب، پانی کے ذخائر اور کھلے گڑھے بچوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً جب ان کے قریب حفاظتی رکاوٹیں یا فوری امداد کی سہولتیں موجود نہ ہوں۔ سانگھڑ کے اس واقعے میں بچانے کی کوشش کرنے والی دو بچیوں کی بھی جان چلی گئی۔ پانی میں حادثاتی طور پر گرنے والے کسی فرد کو بچانے کی کوشش میں غیر تربیت یافتہ شخص کا خود پانی میں اترنا مزید جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اس سانحے نے متاثرہ خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے دستیاب مصدقہ معلومات تین اموات، دیہاتیوں کی امدادی کوشش اور وزیراعلیٰ کی رپورٹ طلب کرنے تک محدود ہیں۔ تالاب کے انتظام، حادثے کی مکمل نوعیت اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کی تفصیلات بعد کی سرکاری رپورٹ سے واضح ہو سکیں گی۔