حیدرآباد: سندھ پبلک سروس کمیشن کے کمبائنڈ کمپیٹیٹو امتحان 2024 میں ناکام قرار پانے والے امیدواروں نے جمعہ کو حیدرآباد سے کراچی کی جانب احتجاجی مارچ شروع کیا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ امتحانی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی اور شکایات کا مؤثر ازالہ چاہتے ہیں۔ مارچ کمیشن کے دفتر کے باہر قائم احتجاجی کیمپ سے شروع ہوا اور شرکا نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈان کی دس اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی امیدواروں کا کیمپ حیدرآباد کی ٹھنڈی سڑک پر امتحانی نتائج کے اعلان کے بعد 81 روز سے قائم تھا۔ امیدواروں کے مطالبات میں کمبائنڈ کمپیٹیٹو امتحان 2024 دوبارہ منعقد کرنا، سندھ پبلک سروس کمیشن کے طریقہ کار میں اصلاحات، موجودہ انتظامیہ کی برطرفی اور مختلف امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی عدالتی تحقیقات شامل ہیں۔ یہ تمام نکات مظاہرین کے مطالبات ہیں؛ بے ضابطگیوں کے الزامات کو کسی حتمی عدالتی فیصلے میں ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا گیا۔

مارچ کی قیادت سندھ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنما ذبیح اللہ مستوئی، وجاہت ہنگورجو، فخر زمان کھنہارو، حسین بخش چانڈیو، سکیلادو چانڈیو اور دیگر کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے حیدرآباد سے ٹنڈو محمد خان اور ٹھٹھہ کے راستے کراچی جانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ مارچ میں بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، وکلا اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھی اظہار یکجہتی کیا۔

امتحانی تنازع کا ایک عدالتی پہلو بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ امیدواروں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تیس جون کو عدالت نے جوابی کاپیوں کی سکھر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ذریعے دوبارہ جانچ کا حکم دیا۔ اس کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن نے اس عبوری حکم کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کی۔ پندرہ جولائی کو وفاقی آئینی عدالت کے بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کے تیس جون کے احکامات معطل کر دیے، جس کے بعد کمیشن کو ستر کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز جاری رکھنے کی اجازت ملی۔

احتجاجی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ طویل دھرنے اور شکایات کے باوجود ان کے مطالبات پر مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی، اس لیے انہوں نے دارالحکومت کراچی کا رخ کیا۔ انہوں نے پہلے شروع کی گئی تادم مرگ بھوک ہڑتال سندھ کی قوم پرست قیادت کی درخواست پر ختم کی تھی۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی سمیت مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے احتجاج کرنے والوں سے یکجہتی ظاہر کی۔

اس تنازع میں امتحانی شفافیت، سرکاری ملازمتوں کے لیے میرٹ اور عدالتوں میں زیر سماعت معاملات تین الگ مگر باہم متعلق پہلو ہیں۔ امیدواروں کے احتجاج کا جاری رہنا انتظامی اختلاف کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن امتحانات میں بے ضابطگیوں کے قانونی نتائج کا تعین مجاز اداروں اور عدالتوں ہی کے فیصلوں سے ہوگا۔ مارچ کے اگلے مراحل اور سرکاری ردعمل کے بارے میں مصدقہ اطلاعات اہم ہوں گی۔