اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے ممکنہ نفاذ پر اپنی مشاورت مکمل کر لی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کسی فیصلے کے لیے حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی اور اس بارے میں ہفتے کو کسی اعلیٰ سطحی اجلاس کی اطلاعات کی بھی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں کس حد تک تعاون کرتی ہے، یہ آئندہ حکومتی لائحہ عمل کے لیے اہم ہوگا۔
9 اکتوبر کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے دعویٰ کیا کہ وفاق اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق اگر صوبائی حکومت تعاون نہ کرے تو وفاق کے سامنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کا متبادل موجود ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شق کے تحت ہنگامی حالت صرف مخصوص 12 اضلاع تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے کے لیے ہو سکتی ہے۔
وزیر نے یہ بھی کہا کہ ایمرجنسی پر غور تحریک انصاف کے جاری احتجاجی مارچ سے متعلق نہیں اور دونوں پیش رفتوں کا ایک ہی وقت میں سامنے آنا اتفاق ہو سکتا ہے۔ یہ ان کا بیان ہے؛ اس سے کسی سرکاری نوٹیفکیشن کے جاری ہونے یا ایمرجنسی نافذ ہو جانے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس معاملے میں کسی حتمی اعلان کی تاریخ بھی نہیں بتائی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے صوبے میں پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی میں مزید تاخیر مناسب نہیں۔ ان کا الزام تھا کہ وفاق نے صوبائی حکومت کو ساتھ لینے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن مطلوبہ تعاون نہیں ملا۔ دوسری جانب وفاق اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات، امن و امان اور سیاسی سرگرمیوں کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔
وزیر نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سیاسی مذاکرات کے لیے ثالثی کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت کے دروازے مستقل طور پر بند نہیں ہوتے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون ایک پائیدار حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس معاملے میں سب سے اہم امتیاز یہ ہے کہ حکومتی وزیر نے ایمرجنسی کے آپشن اور مشاورت کا بیان دیا ہے، لیکن کسی ہنگامی حالت کے عملی نفاذ، باضابطہ نوٹیفکیشن یا منظوری کی تصدیق نہیں ہوئی۔ صوبے میں آئندہ انتظامی یا آئینی اقدام صرف متعلقہ سرکاری فیصلوں سے واضح ہوگا۔
