کراچی: صومالی قزاقوں کے قبضے میں لیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 پر قید کے دوران جان کی بازی ہارنے والے تین پاکستانیوں کے خاندانوں کو حکومت کی جانب سے مالی امداد کے چیک دے دیے گئے ہیں۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی نے جمعرات کو کراچی میں تینوں متاثرہ خاندانوں کو فی کس دو کروڑ 60 لاکھ روپے کے چیک پیش کیے۔

ڈان کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق گورنر ہاؤس سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ امداد وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر دی گئی۔ چیک وصول کرنے والے خاندان محمود احمد انصاری، سید کاشف عمر اور رفیع اللہ خان کے تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق لواحقین نے مشکل وقت میں تعاون پر وزیراعظم اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

گورنر ہاؤس کے ترجمان نے امدادی رقم کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہر خاندان کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے کی براہ راست مالی مدد اور پلاٹ کی خریداری کے لیے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے رکھے گئے۔ اس طرح ہر خاندان کو پیش کیے گئے چیکوں کی مجموعی مالیت دو کروڑ 60 لاکھ روپے بنتی ہے۔ اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری رقم ایک ہی نوعیت کی نقد امداد نہیں بلکہ اس میں رہائش کے لیے مختص رقم بھی شامل ہے۔

وزیراعظم نے اس سے قبل گزشتہ ہفتے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان میں رہائش کی سہولت اور جاں بحق افراد کے بچوں کے لیے مفت تعلیم کی فراہمی کا وعدہ بھی شامل تھا۔ موجودہ خبر چیکوں کی تقسیم کی تصدیق کرتی ہے، تاہم اس میں گھروں یا پلاٹوں کی حوالگی اور بچوں کی تعلیمی سہولتوں کے عملی آغاز کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

اس واقعے کا پس منظر صومالی قزاقوں کی جانب سے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو یرغمال بنانے سے متعلق ہے۔ جہاز پر موجود پاکستانی شہریوں کی قید اور بعض افراد کی ہلاکت نے ان کے اہل خانہ کے لیے طویل پریشانی پیدا کی۔ سرکاری امداد کا حالیہ اقدام انہی خاندانوں کی مالی مدد کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

چیکوں کی تقسیم ایک قابل تصدیق انتظامی پیش رفت ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام اعلان کردہ بحالی اقدامات مکمل ہو چکے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے آئندہ اہم امور رہائشی سہولت کی فراہمی، تعلیمی وعدوں پر عمل اور طویل المدت مدد کے انتظامات ہوں گے۔