ٹیکسلا: خیبر پختونخوا کے خانپور ٹیکسلا علاقے میں ماہرین آثار قدیمہ نے جندیال کے مقام پر ایک بڑی قدیم عمارت کے آثار سامنے آنے کی اطلاع دی ہے۔ تقریباً 100 میٹر طویل اور 50 میٹر چوڑی اس ساخت کو ’جندیال ڈی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ آثار قدیمہ کے معروف جندیال آیونک مندر کے سامنے، قدیم فصیل بند شہر سرکپ سے باہر واقع ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق دریافت خطے کے تاریخی اور شہری ارتقا کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کے مواقع پیدا کرتی ہے۔
جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو جاری تفصیلات کے مطابق قدیم ساخت کا ابتدائی ذکر الیگزینڈر کننگھم نے 1864 میں کیا تھا، تاہم ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اس مقام پر تفصیلی تحقیق نہیں کی گئی تھی۔ تازہ کھدائی رواں سال اگست کے وسط میں شروع ہوئی، جس کے دوران وسیع اور مضبوط دیواریں سامنے آئیں۔ ماہرین نے ابھی اس بات کا قطعی تعین نہیں کیا کہ اس عمارت کو عوامی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا یا اس کا کوئی مذہبی کردار تھا۔
کھدائی خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کی زیر نگرانی ’خیبر پاتھ‘ منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔ منصوبے کی رہنمائی اطالوی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر لوکا ایم اولیویری کر رہے ہیں، جبکہ اس کے لیے مالی معاونت اطالوی ترقیاتی تعاون کے ادارے اے آئی سی ایس نے فراہم کی ہے۔ منصوبے پر وینس کی کا فوسکاری یونیورسٹی سے وابستہ اطالوی آثار قدیمہ مشن، خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمز کے تعاون سے کام کر رہا ہے۔
صوبائی ڈائریکٹر جنرل آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جندیال میں ملنے والے آثار اس پورے خطے کی تاریخی اہمیت اور مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی توجہ دلائی کہ شہری آبادی میں پھیلاؤ تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے، اس لیے تحقیق کے ساتھ ان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر اولیویری کے مطابق عمارت کا بڑا حجم اور اس کا محل وقوع قدیم سرکپ اور گندھارا کے وسیع تاریخی منظرنامے سے متعلق نئے سوالات پیدا کرتے ہیں۔ فی الحال اس ساخت کی عمر، استعمال اور دیگر مقامات سے تعلق کے بارے میں حتمی قیاس آرائی مناسب نہیں، کیونکہ دستیاب تفصیلات میں کھدائی اور تجزیے کا کام جاری بتایا گیا ہے۔
خیبر پاتھ منصوبہ تقریباً ایک سال سے صوبے میں سوات سے خانپور ٹیکسلا تک آٹھ آثار قدیمہ کے مقامات پر جاری ہے۔ اس کے تحت سرسکھ کے قدیم دفاعی آثار کی کھدائی اور حفاظت کے ساتھ بریکوٹ اور دیگر مقامات پر تحقیق بھی شامل ہے۔ جندیال میں نئی پیش رفت اس تسلسل کا حصہ ہے، جس کا مقصد قدیم ورثے کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنا اور محفوظ رکھنا ہے۔ دریافت کے بارے میں سرکاری اعلامیے کے نکات کو ماہرین کی ابتدائی معلومات سمجھا جانا چاہیے؛ عمارت کی نوعیت کا حتمی فیصلہ مزید تحقیق کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
