اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے جمعہ 9 اکتوبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ قومی فضائی کمپنی کے ترجمان نے اس فیصلے کی وجہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال کو قرار دیا ہے۔ کمپنی نے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے پہلے کال سینٹر کے ذریعے اپنی متعلقہ پرواز کی تازہ حیثیت معلوم کریں، کیونکہ علاقائی حالات کے باعث شیڈول میں فوری تبدیلی ممکن ہے۔

ڈان کے مطابق فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب کے مختلف مقامات اور ریاض کے ہوائی اڈے کو ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کا سامنا رہا۔ یمن کی حوثی فورسز نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ ان دعووں اور فضائی سفر پر ان کے اثرات کو متعلقہ فریقوں کے بیانات اور دستیاب پروازوں کے ریکارڈ کی روشنی میں الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستانی ایئرلائن کا تصدیق شدہ فیصلہ ریاض کی پروازوں کی عارضی بندش سے متعلق ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے بھی پی آئی اے کی ریاض کے لیے پروازیں معطل ہونے کی تصدیق کی۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے علاوہ سعودی عرب کے لیے دیگر فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی تمام پروازوں کی بندش سے متعلق قیاس آرائیاں درست نہیں۔ یوں پی آئی اے کے ایک مخصوص روٹ کی بندش کو پورے سعودی نیٹ ورک کی بندش قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے ڈان نے بتایا کہ جمعہ کو ریاض کے ہوائی اڈے سے آنے اور جانے والی 104 پروازیں منسوخ اور 154 تاخیر کا شکار تھیں، جبکہ جمعرات کو منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 335 دکھائی گئی تھی۔ یہ مجموعی ہوائی اڈے کے اعدادوشمار ہیں، صرف پی آئی اے کی پروازوں کی تعداد نہیں۔ کئی غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے بھی عارضی طور پر ریاض کے لیے خدمات محدود کی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا گروپ نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 16 اکتوبر تک رکھنے کا بتایا، جبکہ بعض بھارتی فضائی کمپنیوں نے بھی مختلف تاریخوں تک پروازیں منسوخ کی ہیں۔ ان کمپنیوں کے فیصلے اور مدتیں پی آئی اے کے اعلان سے الگ ہیں؛ پی آئی اے نے اس رپورٹ میں بحالی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ مسافروں کے لیے سب سے اہم عملی قدم اپنی بکنگ کی صورت حال براہ راست ایئرلائن سے معلوم کرنا ہے۔

علاقائی کشیدگی کی وجہ سے سعودی فضائی راستوں پر پڑنے والا دباؤ مسافروں اور بین الاقوامی رابطوں کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان کی ہوابازی سے متعلق تصدیق شدہ اطلاع فی الحال صرف ریاض کے مخصوص آپریشن میں عارضی تعطل کی ہے، اس لیے نئی ہدایات تک دیگر پروازوں کے بارے میں غیر مصدقہ خبروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔