اسلام آباد: نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی مشترکہ سالانہ جیل رپورٹ 2026 میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار 513 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 82 ہزار 988، یعنی تقریباً 75 فیصد افراد، ایسے ہیں جن کے مقدمات کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ رپورٹ جمعرات کو یورپی یونین کے تعاون سے منعقدہ تقریب میں پیش کی گئی اور اس کی تفصیلات ڈان نے 9 اکتوبر کو شائع کیں۔
اعدادوشمار کے مطابق ملک کی جیلوں کی منظور شدہ مجموعی گنجائش تقریباً 68 ہزار 832 افراد ہے، جبکہ وہاں اس سے 41 ہزار 681 زیادہ لوگ موجود ہیں۔ اس طرح قیدیوں کی تعداد مجاز گنجائش کے 160 فیصد سے بھی بڑھ گئی ہے۔ محض زیر سماعت قیدیوں کی تعداد پوری ملک کی مجموعی منظور شدہ گنجائش سے 14 ہزار 156 زیادہ ہے۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیلوں میں بھیڑ بڑھنے کا تعلق صرف سزا یافتہ افراد سے نہیں، بلکہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اور حراستی طریقہ کار سے بھی ہے۔
قومی کمیشن کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے رپورٹ کے اجرا پر کہا کہ مسئلہ صرف جیلوں کی گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا نہیں بلکہ مجموعی فوجداری نظام انصاف کی کارکردگی کا ہے۔ انہوں نے طویل حراست، عدالتی کارروائیوں میں تاخیر، ضمانت کے حصول میں رکاوٹوں اور قید کے متبادل طریقوں کے محدود استعمال کی طرف توجہ دلائی۔ رپورٹ کا مقصد ان موضوعات پر دستیاب سرکاری معلومات کی روشنی میں اصلاحات کے لیے بنیاد فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انسداد منشیات قوانین کے تحت قید افراد کی تعداد 28 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے، جو تمام قیدیوں کے ایک چوتھائی سے زائد بنتی ہے۔ 2023 کے بعد سے منشیات سے متعلق قوانین کے تحت قید افراد کی تعداد میں 43 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ ہوا۔ یہ اعدادوشمار قانونی مقدمات اور قید کی صورتحال سے متعلق ہیں؛ کسی انفرادی قیدی کے جرم کے ثابت ہونے کا اعلان نہیں۔
صوبوں کے درمیان صورتحال یکساں نہیں۔ پنجاب اور سندھ میں جیلوں پر دباؤ زیادہ ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے قیدیوں کی تعداد کم کرکے مجموعی طور پر اپنی منظور شدہ گنجائش کے اندر رہنے کی پیش رفت دکھائی ہے۔ رپورٹ میں اس فرق کے ممکنہ عوامل کے طور پر پروبیشن، پیرول اور قید کے متبادل طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ خواتین قیدیوں کی تعداد 2024 کے مقابلے میں 45.96 فیصد بڑھی جبکہ جیلوں میں موجود بچوں کے 86.2 فیصد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ سزائے موت کے منتظر افراد کی تعداد 3,220 بتائی گئی، جو 2024 کے مقابلے میں 11.7 فیصد کم ہے۔
جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی سربراہ سارہ بلال اور دیگر شرکا نے دستیاب اعدادوشمار کی بنیاد پر اصلاحات پر زور دیا۔ رپورٹ میں غیر ضروری حراست کم کرنے، ضمانت کے طریقوں کا جائزہ لینے، مقدمات کی تاخیر دور کرنے، جیل سے باہر قانونی متبادل بڑھانے اور جیلوں کی نگرانی مضبوط کرنے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ یہ سفارشات ہیں، اب تک نافذ ہو جانے والے اقدامات نہیں۔
