پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں دیانت دار ثالث کی حیثیت سے کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا مقصد فریقین کو مذاکرات کے ذریعے پرامن نتیجے کے قریب لانا ہے۔ انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے نمائندے ایوان واٹسن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات اور خطے میں ایران سے منسلک حوثی گروہ کے حملوں کے بعد اسلام آباد کے لیے غیر جانبدار ثالث بنے رہنا کس حد تک ممکن ہے۔ فوجی ترجمان کا مؤقف تھا کہ پاکستان اپنے تمام شراکت داروں کے سامنے اپنی پوزیشن واضح طور پر رکھتا آیا ہے اور اس کی سفارتی کوششوں کی بنیاد دیانت داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر پاکستان نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی مذمت کی تھی، جبکہ خلیجی علاقے میں ایران کی جوابی کارروائیوں پر بھی اعتراض کیا تھا۔ ان کے بقول اس طرزِ عمل کا مقصد کسی فریق کو بلاشرط حمایت دینا نہیں بلکہ علاقائی امن اور استحکام کو ترجیح دینا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا کہ تنازع کا جغرافیائی دائرہ بڑھنے یا شدت میں اضافے سے کسی ملک کو فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان اختلافات کم کرنے کے لیے ممکنہ سفارتی راستوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم انٹرویو میں کسی نئی باضابطہ مفاہمت، جنگ بندی یا مذاکراتی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی سلامتی، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی روابط اور ایران سے متعلق سفارت کاری کو بین الاقوامی سطح پر خاص توجہ حاصل ہے۔ ترجمان کی گفتگو پاکستان کے سرکاری مؤقف کی وضاحت کرتی ہے؛ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ متحارب فریق کسی حتمی حل پر متفق ہو چکے ہیں۔
