خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی میں سات مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ جمعہ 9 اکتوبر 2026 کو سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ تفصیلات جاری کیں، جنہیں ڈان نے بھی رپورٹ کیا۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی میں ہلاک ہونے والے افراد کو سرکاری ذرائع نے ’فتنہ الخوارج‘ سے منسلک قرار دیا ہے۔ پاکستانی ریاست یہ اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے لیے استعمال کرتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور برآمد شدہ اشیا کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی گئی۔

صدر آصف علی زرداری نے کارروائی پر سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں قوم کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کا مؤقف بھی دہرایا۔ یہ بیان ایوان صدر سے منسوب ہے اور کارروائی کے آزادانہ شواہد کی جگہ نہیں لیتا۔

شمالی وزیرستان میں اس سے پہلے بھی مختلف تاریخوں کو متعدد انٹیلی جنس آپریشن رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ڈان کے مطابق 8 اکتوبر کو نو، 7 اکتوبر کو تیرہ اور 6 اکتوبر کو پانچ مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کے الگ واقعات کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس لیے 9 اکتوبر کی رپورٹ کو گزشتہ دنوں کی کارروائیوں کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورت حال مسلسل تشویش کا موضوع ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے پہلے جاری کردہ اعدادوشمار کے حوالے سے ڈان نے بتایا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے علاوہ صوبے میں اگست کے دوران 54 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے تھے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی۔

اس تازہ واقعے میں ہلاکتوں اور برآمدگی سے متعلق معلومات سرکاری اور سکیورٹی ذرائع پر مبنی ہیں۔ آزاد ذرائع سے واقعے کی تمام جزئیات کی الگ تصدیق سامنے نہیں آئی؛ اسی بنا پر رپورٹ میں دعووں کی نسبت واضح رکھی گئی ہے۔