پشاور: خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن نے بچوں کے جنسی استحصال، بدسلوکی اور تشدد کے خلاف صوبہ گیر آگاہی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد خاندانوں اور مقامی آبادیوں کو بچوں کے تحفظ سے متعلق معلومات دینا، خطرات کی ابتدائی شناخت کو بہتر بنانا اور واقعات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

ڈان میں 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق افتتاحی تقریب میں صوبائی حکومت کے نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی علما، بچوں کے تحفظ کے شعبے سے وابستہ افراد، ذرائع ابلاغ اور بچوں و نوجوانوں نے شرکت کی۔ کمیشن نے مختلف شعبوں کی شرکت کو بچوں کے لیے محفوظ ماحول بنانے کی مشترکہ کوشش قرار دیا۔

کمیشن کے سربراہ اعجاز محمد خان نے مہم کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ صرف کسی واقعے کے سامنے آنے کے بعد ردعمل کافی نہیں، بلکہ گھر اور محلے کی سطح پر خطرات کو پہچاننے اور بروقت مناسب اداروں تک اطلاع پہنچانے کی صلاحیت مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ روک تھام اور شکایات پر ردعمل دونوں مؤثر ہوسکیں۔

اس مہم کا مرکزی پہلو عوامی حساسیت بڑھانا ہے۔ بچوں کے خلاف بدسلوکی کے معاملات میں متاثرہ بچے کی شناخت اور نجی معلومات کا تحفظ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے مراد ایسا طریقہ اختیار کرنا ہے جس سے متعلقہ اداروں کو ضروری اطلاع پہنچے لیکن بچے کو مزید خطرے، بدنامی یا غیر ضروری تشہیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کمیشن کے اعلان میں اسی ذمہ دارانہ طرزعمل کو ترجیح دی گئی ہے۔

مہم کے آغاز کے موقع پر پیش کی گئی معلومات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کمیشن سرکاری اداروں کے ساتھ سماجی، مذہبی اور مقامی سطح پر کام کرنے والے حلقوں کو شریک کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح بچوں کے تحفظ کو صرف ایک محکمے کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے خاندان، تعلیمی ماحول اور معاشرتی اداروں کے مشترکہ کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم دستیاب رپورٹ میں مہم کے مکمل ضلعی شیڈول، بجٹ، مخصوص تربیتی سرگرمیوں یا کارکردگی ناپنے کے اہداف کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے ابھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس اقدام کے نتیجے میں کتنے بچوں کو براہ راست خدمات ملیں گی یا واقعات میں کتنی کمی آئے گی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت صوبہ گیر آگاہی مہم کا باضابطہ آغاز اور کمیشن کی جانب سے بیان کردہ مقاصد ہیں۔