اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرون ملک تجارتی اور کمرشل عہدوں پر تعیناتی کے خواہش مند سرکاری افسران کو سیکیورٹی کلیئرنس نہ دیے جانے کے معاملے میں حساس اداروں کی رپورٹس کی قانونی حیثیت پر مزید دلائل طلب کر لیے ہیں۔ عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ ایسے خفیہ مواد کو ملازمت اور تعیناتی کے فیصلوں میں کس قانونی بنیاد پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور عدالتی جائزے کے دوران اس کی حیثیت کیا ہوگی۔
جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس عمیر مجید ملک پر مشتمل دو رکنی بینچ وفاق کی انٹرا کورٹ اپیل سن رہا ہے۔ یہ اپیل ایک سنگل بینچ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں منفی سیکیورٹی رپورٹس کی بنیاد پر بیرون ملک تعیناتی سے محروم افسران کو ریلیف دیا گیا تھا۔ موجودہ کارروائی کے دوران عدالت نے اضافی اٹارنی جنرل اور افسران کے وکلا سے مزید معاونت مانگی؛ اپیل کا حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
سماعت میں جسٹس سومرو نے سوال اٹھایا کہ کیا انٹیلی جنس اداروں کی تیار کردہ رپورٹس کو عدالتی حکم کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے اور کیا ایسی رپورٹ وزیراعظم کے کیے ہوئے فیصلے پر غالب آسکتی ہے۔ انہوں نے اس پہلو پر بھی توجہ دلائی کہ اگر معاملہ حکومت اور وزیراعظم کے صوابدیدی اختیار میں آتا ہے تو اختیارات کی آئینی تقسیم پر غور کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایک افسر کو ملک میں سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے موزوں لیکن بیرون ملک تعیناتی کے لیے ناموزوں کس بنیاد پر قرار دیا جاتا ہے۔
متاثرہ افسران کے وکیل سعد بٹر نے موقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلوں نے امتحانات اور انٹرویوز کے بعد گریڈ بائیس کے افسران پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی کے انتخابی عمل میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کے بقول امیدوار ضروری تربیت سے بھی گزرے اور بعض کو سفارتی پاسپورٹ جاری ہوئے، مگر بعد میں ایک مختصر اطلاع کے ذریعے انہیں متعلقہ عہدوں کے لیے ناموزوں قرار دے دیا گیا۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ خفیہ رپورٹ ایک شفاف انتخابی عمل کو کیسے غیر مؤثر کر سکتی ہے۔
وکیل کے مطابق ان کے مؤکل صرف روایتی تبادلے کے خواہش مند نہیں تھے بلکہ انہوں نے بیرون ملک عہدوں کے لیے باقاعدہ درخواستیں دی تھیں، اور ایسے عہدوں کے لیے عام شہریوں کی درخواستوں کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک سرکاری ملازمین سے متعلق سروس قانون کی دفعات کو خودکار طور پر اس معاملے پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ یہ متاثرہ افسران کے وکیل کے دلائل ہیں، عدالت کی منظور شدہ حتمی قانونی رائے نہیں۔
وفاق کی جانب سے اضافی اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے مؤقف اختیار کیا کہ سول سرونٹس ایکٹ کی دفعہ دس سے متعلق امور سروسز ٹریبونل اور دیگر فورمز میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواستیں قابلِ سماعت نہیں تھیں۔ اس طرح فریقین کے درمیان نہ صرف سیکیورٹی رپورٹس کی حیثیت بلکہ مناسب قانونی فورم کا سوال بھی اختلافی ہے۔
روزنامہ ڈان کی 9 اکتوبر 2026 کی عدالتی رپورٹ سے واضح ہے کہ بینچ نے ابھی ان متنازع قانونی امور کا حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ زیرِ سماعت اپیل کے نتیجے سے پہلے کسی فریق کے دعوے کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

