کراچی: سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے فائر سیفٹی آڈٹ پورٹل کے اعدادوشمار نے ظاہر کیا ہے کہ کراچی میں شناخت کی گئی 162 عمارتیں آگ سے بچاؤ کے متعلقہ ضوابط کی مکمل پابندی نہیں کر رہیں۔ شہر میں مجموعی طور پر 907 عمارتوں کی نشاندہی ہوئی، تاہم دوسرے مرحلے کے حفاظتی جائزے میں اب تک صرف 292 عمارتوں کا دوبارہ معائنہ ہوا ہے۔ اس طرح 615 عمارتوں کی دوبارہ جانچ باقی ہے۔ یہ اعداد 9 اکتوبر 2026 کو روزنامہ ڈان کی رپورٹ میں سامنے آئے۔

ضلع وار تفصیلات کے مطابق ضلع جنوبی میں 57 عمارتیں غیر مطابق اور 104 جزوی مطابق درج ہیں۔ ضلع وسطی میں 45 غیر مطابق، 69 جزوی مطابق اور 71 بڑی حد تک مطابق عمارتیں ریکارڈ کی گئیں۔ ضلع شرقی میں 15، کورنگی میں 23، ملیر میں سات، کیماڑی میں چار جبکہ غربی میں گیارہ غیر مطابق عمارتوں کا ذکر ہے۔ کورنگی میں 140 عمارتوں کو حفاظتی تقاضوں سے بڑی حد تک مطابق قرار دیا گیا۔ ان زمروں کا تعلق آڈٹ کی درجہ بندی سے ہے؛ ہر عمارت کے لیے یکساں نوعیت یا درجے کا خطرہ فرض نہیں کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی ڈویژن میں دوسرے مرحلے کے دوران چار عمارتوں کی درجہ بندی درمیانے خطرے سے زیادہ خطرے میں اور ایک عمارت کی کم خطرے سے زیادہ خطرے میں منتقل ہوئی۔ دوسری جانب چودہ عمارتوں میں زیادہ سے درمیانے اور بائیس عمارتوں میں زیادہ سے کم خطرے کی سطح کی جانب بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مقامات پر پیش رفت ہوئی ہے لیکن بعض عمارتوں کی صورتحال مزید توجہ مانگتی ہے۔

صوبے بھر میں شناخت شدہ عمارتوں کی تعداد 3486 بتائی گئی، جن میں دوسرے مرحلے میں شامل کی گئی 142 عمارتیں بھی ہیں۔ اب تک 1270 کا دوبارہ معائنہ ہوا جبکہ 2216 عمارتیں، یعنی 63 فیصد سے زائد، اس مرحلے میں جانچ کی منتظر ہیں۔ مجموعی خطرے کی درجہ بندی کے مطابق 486 عمارتیں زیادہ، 1199 درمیانے اور 1829 کم خطرے کی سطح میں آتی ہیں۔ یہ مختلف ذیلی جائزوں کے اعداد ہیں، اس لیے ان کا تقابل کرتے وقت متعلقہ درجہ بندی اور مرحلے کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے 7 اکتوبر کو ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو آڈٹ کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں پی ڈی ایم اے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندے شریک تھے۔ کمشنر نے ایسے مقامات کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی جہاں آگ سے بچاؤ کے انتظامات ناکافی ہوں، تاکہ ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں عمارتوں کے منظور شدہ نقشے پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فائر بریگیڈ کو متعلقہ معلومات میسر ہوں۔ ہسپتالوں، صنعتوں اور اسکولوں کا حفاظتی آڈٹ کرنے کا فیصلہ ہوا، جس میں ہسپتالوں کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔ ضلع کے متعلقہ حکام نے اب تک کیے گئے سروے اور حفاظتی ہدایات کے بارے میں بھی معلومات دیں۔

فی الحال اس خبر کا مصدقہ پہلو آڈٹ میں سامنے آنے والی درجہ بندی اور انتظامیہ کے نئے اقدامات ہیں۔ صرف آڈٹ میں کمی کی نشاندہی کا مطلب کسی مخصوص عمارت میں فوری حادثے کی پیش گوئی نہیں، مگر دوبارہ معائنے اور ضابطوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ضرور سامنے آتی ہے۔