اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد کے مطابق تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کا انتظام ہونے اور ان کی صحت کے بارے میں معلومات فراہم کیے جانے تک حکومت سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ جمعرات 15 اکتوبر کو اتحاد کی قیادت کے اجلاس میں کیا گیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر ہوا، جہاں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی مذاکرات کا اختیار صرف اتحاد کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کے پاس ہوگا۔ اس اعلان سے واضح کیا گیا کہ دیگر رہنماؤں کی انفرادی گفتگو اتحاد کی باضابطہ مذاکراتی پوزیشن نہیں سمجھی جائے گی۔
اتحاد نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی اور اسے صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا۔ یہ اپوزیشن کا سیاسی مؤقف ہے؛ وفاقی حکومت اس سے اختلاف کرتی ہے اور اپنے اقدام کو سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں ضروری بتاتی ہے۔ اتحاد نے اعلان کیا کہ وہ ان اقدامات کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا۔
بیان میں غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر اور گرفتار منتخب نمائندوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ اتحاد نے عمران خان کی بہنوں کی رہائی، بانی تحریک انصاف تک ان کے معالجین کی رسائی اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
تحریک تحفظ آئین نے دہشت گردی کی مختلف صورتوں کی مذمت کرتے ہوئے قومی ایکشن پلان کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس نے خیبر پختونخوا اسمبلی سے منظور شدہ امن جرگے کی مشترکہ قرارداد پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔ اتحاد نے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی اور صوبے کے مسائل طاقت کے بجائے مقامی آبادی سے بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں آئینی دفعات 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ حکومت نے صوبائی انتظامیہ کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے مبینہ عدم تعاون کو اس اقدام کی وجہ قرار دیا، جبکہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتیں اسے سیاسی اقدام سمجھتی ہیں۔ دونوں جانب کے الزامات اور مؤقف کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے بھی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور احتجاجی سیاست کے معاملات پر اختلافات کے باعث بات چیت متاثر ہوئی تھی۔ تازہ اعلان سے مذاکرات کی بحالی کے لیے اپوزیشن کی شرائط مزید واضح ہوگئی ہیں، تاہم ان شرائط پر حکومت کے کسی نئے اتفاق یا ملاقات کے حتمی انتظام کی اطلاع ابھی سامنے نہیں آئی۔

