گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے جمعرات 15 اکتوبر کو خطے میں طویل عرصے سے مؤخر بلدیاتی انتخابات کے لیے نیا شیڈول جاری کر دیا۔ ان کے اعلان کے مطابق گلگت، اسکردو اور چلاس کی میونسپل کارپوریشنوں میں پانچ دسمبر 2026 کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ ضلعی کونسلوں، میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کے انتخابات اپریل 2027 میں کرائے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ شیڈول خطے میں مقامی نمائندگی کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے گلگت بلتستان الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ انتخابات دو مرحلوں میں ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں تین بڑے شہری مراکز کی میونسپل کارپوریشنیں شامل ہوں گی، جبکہ باقی علاقوں کے لیے الگ وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز اضلاع میں سخت سردی اور برف باری کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپریل کا انتخاب کیا گیا۔

الیکشن کمشنر کے مطابق گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات تقریباً 22 برس سے نہیں ہوئے۔ گزشتہ برس اعلان کردہ شیڈول میں فروری 2026 کی تاریخ سامنے آئی تھی، تاہم موسم اور قانونی ترامیم کے باعث پولنگ بار بار ملتوی ہوئی۔ بعد میں اگست اور ستمبر کے لیے بھی تجاویز سامنے آئیں لیکن مقامی حکومت کے قانون میں تبدیلیوں کے لیے مزید وقت درکار تھا۔ تازہ اعلان اس پس منظر میں کیا گیا ہے کہ متعلقہ ترامیم مکمل ہو چکی ہیں۔

نئے شیڈول کے تحت تین میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کے عوامی نوٹس 24 اکتوبر کو جاری کیے جائیں گے اور کاغذات نامزدگی 26 سے 29 اکتوبر تک جمع ہوں گے۔ پانچ دسمبر کی پولنگ میں منتخب ہونے والے ارکان بعد ازاں میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ مقامی اداروں کے نظام کو نئی ترامیم کے بعد چار بنیادی اقسام میں منظم کیا گیا ہے جن میں ضلعی کونسل، یونین کونسل، میونسپل کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ترمیم شدہ قانون میں آزاد امیدواروں کو بھی انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پہلے انتخابات جماعتی بنیادوں پر منعقد کرنے کی تجویز تھی۔ نئے انتظام کے تحت متعدد وارڈز کا نظام اختیار کیا جائے گا اور مقامی اداروں میں خواتین کے لیے 17 فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ میونسپل کارپوریشنوں میں میئر اور ڈپٹی میئر جبکہ دیگر متعلقہ اداروں میں چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب ہوں گے۔

چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ ہنزہ، نگر، غذر، استور، کھرمنگ، گانچھے اور شگر سمیت سات اضلاع میں ضلعی کونسلوں، یونین کونسلوں اور میونسپل کمیٹیوں کے انتخابات دوسرے مرحلے میں ہوں گے۔ اس اعلان کے باوجود انتخابات کا عملی انعقاد نامزدگیوں، انتخابی تیاریوں اور متعلقہ اداروں کے انتظامی اقدامات سے مشروط ہوگا۔ مقامی حکومتوں کی بحالی سے شہری خدمات اور مقامی ترقیاتی فیصلوں میں منتخب نمائندوں کا کردار دوبارہ قائم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار انتخابات کے بروقت انعقاد پر ہوگا۔