اسلام آباد: پاکستان کی وزارت انسانی حقوق اور عالمی ادارۂ صحت نے بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے پہلی قومی حکمت عملی 2026 تا 2031 جاری کر دی ہے۔ اس اقدام کا اعلان 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والی قومی مشاورت کے دوران کیا گیا، جس میں بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام، تشدد کی روک تھام اور متاثرہ بچوں تک مدد پہنچانے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی۔

اقوام متحدہ کے پاکستان دفتر کی 15 اکتوبر کی سرکاری اطلاع کے مطابق حکمت عملی کا ہدف ملک کے تقریباً 12 کروڑ بچوں کے لیے تحفظ، بروقت امداد اور انصاف تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ وزارت انسانی حقوق نے یہ منصوبہ عالمی ادارۂ صحت کے اشتراک سے تیار کیا، جبکہ یونیسیف نے بھی مشاورتی عمل میں حصہ لیا۔ اجلاس آئندہ ماہ منیلا میں ہونے والی بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق دوسری عالمی وزارتی کانفرنس کی تیاری کا حصہ تھا۔

حکمت عملی میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر دس میں سے آٹھ بچوں کو کسی نہ کسی شکل میں پرتشدد تادیب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کے ہر سولہ میں سے ایک بچے کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا تجربہ ہوتا ہے۔ دستاویز میں تقریباً آٹھ لاکھ چالیس ہزار کم عمر بچوں کی شادی اور 86 لاکھ بچوں کی مزدوری کا بھی ذکر ہے۔ یہ اعداد حکمت عملی میں دیے گئے تخمینے ہیں، انہیں کسی ایک دن میں رپورٹ ہونے والے نئے واقعات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

دستاویز جسمانی اور نفسیاتی تشدد، جنسی بدسلوکی، نظرانداز کیے جانے، بچوں کی خریدوفروخت، کم عمری کی شادی، جبری مشقت اور آن لائن استحصال جیسے مسائل کا احاطہ کرتی ہے۔ بے گھر، نقل مکانی کرنے والے اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہنے والے بچوں کو زیادہ خطرات سے دوچار گروہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ حکمت عملی کا مقصد روک تھام کے ساتھ متاثرہ بچوں کی بحالی، متعلقہ خدمات تک رسائی اور قانونی تحفظ کو مربوط بنانا ہے۔

منصوبے کی بنیاد بین الاقوامی طور پر استعمال ہونے والے انسپائر فریم ورک پر رکھی گئی ہے، جس میں قوانین کا نفاذ، محفوظ ماحول، والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی معاونت، معاشی استحکام، امدادی خدمات اور زندگی گزارنے کی مہارتیں شامل ہیں۔ اس طریقہ کار میں صرف تشدد کے بعد کارروائی کے بجائے ان عوامل پر بھی توجہ دی جاتی ہے جو بچوں کو پہلے ہی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

سیکریٹری انسانی حقوق عبدالخالق شیخ نے اجرا کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کامیابی کا اصل پیمانہ عملی اقدامات اور بچوں کے تحفظ میں بہتری ہوگی۔ پارلیمانی سیکریٹری صبا صادق نے متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون پر زور دیا۔ یونیسیف اور عالمی ادارۂ صحت کے نمائندوں نے بھی والدین، تعلیمی ماحول اور بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کی۔

دو روزہ مشاورت میں وفاقی و صوبائی حکام، ماہرین، سول سوسائٹی اور بچوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ حکمت عملی کا اجرا ایک پالیسی فیصلہ ہے؛ اس کے نفاذ، وسائل کی فراہمی اور زمینی نتائج کی پیش رفت کا جائزہ آنے والے عرصے میں لیا جانا ہوگا۔