اسلام آباد/لاہور: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 15 اکتوبر کو پنجاب حکومت کی اس تجویز کو مسترد کردیا جس کے تحت صوبے میں بلدیاتی انتخابات آئندہ سال اپریل میں تین مراحل میں کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔ روزنامہ ڈان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی حکومت کے مؤقف کا جائزہ لیا گیا اور اسے غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔
پنجاب حکومت نے 14 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کو ارسال کردہ جواب میں تجویز دی تھی کہ انتخابات 4، 11 اور 18 اپریل 2027 کو مرحلہ وار منعقد کیے جائیں۔ حکومت نے دسمبر اور جنوری میں شدید سردی، دھند اور سموگ کے امکانات کے علاوہ فروری میں رمضان المبارک کی آمد کو انتخابات کے انتظامات میں ممکنہ رکاوٹ قرار دیا۔ صوبائی مؤقف کے مطابق مرحلہ وار پولنگ سے انتخابی عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، انتخابی سامان کی نقل و حمل اور ووٹروں کی رسائی میں آسانی ہوسکتی تھی۔
الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق صوبائی حکومت کے ساتھ 20 اگست کو مشاورت مکمل ہوچکی تھی اور اس دوران دسمبر کے وسط سے جنوری کے وسط تک انتخابات کرانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ اس مرحلے پر پہلے سے طے شدہ وقت تبدیل کرنے کی نئی درخواست قابل قبول نہیں۔ انتخابی ادارے نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے دفتر کو ہدایت کی کہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کا مجوزہ پروگرام فوری منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔
کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ صوبائی حکومت سے ضلعی ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کے لیے اہلکاروں کی فہرست مانگی گئی تھی، تاہم متعلقہ فہرستیں فراہم نہیں کی گئیں۔ الیکشن کمیشن نے اس تاخیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ایک ہفتے کے اندر ضروری نام بھیجنے کی ہدایت کی۔ اس حکم کے بعد انتخابی انتظامات اور عملے کی دستیابی آئندہ پیش رفت کے اہم عوامل ہوں گے۔
پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں منعقد ہوئے تھے، جبکہ منتخب اداروں نے بعد کے مراحل میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ صوبائی بلدیاتی اداروں کی مدت دسمبر 2021 میں مکمل ہونے کے بعد نئے انتخابات متعدد بار مؤخر ہوئے۔ اس دوران قانون سازی اور انتظامی تبدیلیوں کے سبب حلقہ بندیوں اور انتخابی تیاریوں کا عمل بھی متاثر ہوا۔
آئین کے آرٹیکل 140 اے میں مقامی حکومتوں کا تصور موجود ہے، جبکہ متعلقہ انتخابی قوانین کے تحت اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد مقررہ وقت میں انتخابات ضروری ہیں۔ الیکشن کمیشن کا تازہ فیصلہ صوبے میں بلدیاتی نمائندگی کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ پولنگ کی حتمی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے۔ حتمی پروگرام کی منظوری اور اجرا الیکشن کمیشن کے اگلے اقدامات سے واضح ہوگا۔
