پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات 15 اکتوبر کو ایک نجی اسکول کی عمارت کے دو کمروں کی چھتیں گرنے سے کم از کم 34 بچے اور ایک استاد جاں بحق ہوگئے جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ واقعہ دیر کالونی میں قائم الخیر اسکول میں اس وقت پیش آیا جب دوسری اور تیسری جماعت کے بچے اپنے اساتذہ کے ساتھ کلاسوں میں موجود تھے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ متاثرہ بچوں کی عمریں زیادہ تر چھ سے بارہ سال کے درمیان تھیں جبکہ سب سے بڑے متاثرہ بچے کی عمر 14 سال تھی۔ اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی اور طبی عملے نے زخمیوں کو علاج فراہم کیا۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے، اس لیے متاثرین کی تعداد سے متعلق سرکاری اطلاعات میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

ریسکیو خدمات کے ترجمان بلال فیضی کے مطابق اطلاع ملنے کے تقریباً پانچ منٹ بعد ایمبولینسیں اور امدادی عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ بعد میں تقریباً سو اہلکاروں نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ ملبے تلے پھنسے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی مکمل کرلیا گیا۔ ترجمان کے مطابق فوری امدادی کارروائی سے کم از کم چالیس جانیں بچانے میں مدد ملی۔

حادثے کے بعد والدین اور مقامی رہائشی اسکول اور اسپتال پہنچے۔ مقامی افراد نے ابتدائی مرحلے میں بچوں کو نکالنے میں امدادی کارکنوں کی مدد کی۔ ایک زخمی استانی نے اسپتال سے بتایا کہ اسکول میں نرسری سے پانچویں جماعت تک تقریباً بارہ سو طلبہ زیر تعلیم تھے۔ علاقے میں جاں بحق افراد کی اجتماعی نماز جنازہ سے متعلق اعلانات بھی کیے گئے۔

پشاور پولیس کے سربراہ سعید احمد کے مطابق اسکول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور عمارت ساختی اعتبار سے کمزور تھی۔ پولیس کے مطابق مالک نے ابتدائی مؤقف میں حالیہ بارشوں کو چھت کمزور ہونے کی وجہ قرار دیا، تاہم اس دعوے کی تصدیق تحقیقات سے مشروط ہے۔ صوبائی حکومت نے تین منزلہ عمارت کی چھت گرنے کے اسباب معلوم کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اموات پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مضبوطی، نگرانی اور حفاظتی معیارات پر فوری توجہ کی ضرورت کو دوبارہ نمایاں کیا ہے، تاہم کسی مخصوص ادارے یا فرد کی قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش کے بعد ہی ہوسکے گا۔