اسلام آباد میں جمعرات 15 اکتوبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق وفاقی حکومت کے اقدامات کی توثیق کی۔ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت اختلاف سامنے آیا اور حزب اختلاف نے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاق نے 11 اکتوبر کو صوبے میں یہ اقدامات نافذ کیے تھے۔ حکومت نے اس فیصلے کا جواز انسداد دہشت گردی کے معاملے پر صوبائی انتظامیہ کے ساتھ اختلافات کو قرار دیا تھا، جبکہ تحریک انصاف نے اس مؤقف کو مسترد کیا۔

مشترکہ اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج سے متعلق الگ الگ قراردادیں پیش کیں۔ اجلاس کے آغاز میں بعض قواعد معطل کرنے کی تحریک پر ارکان سے کھڑے ہو کر رائے لی گئی اور ڈان کے مطابق تحریک 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس ووٹنگ کو دونوں بنیادی قراردادوں کے الگ الگ ووٹوں کی تعداد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے معاملات چلانے کے لیے خصوصی انتظام وضع کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے بار بار توجہ دلائی گئی تھی۔ یہ وفاقی حکومت کے دعوے ہیں، جن پر اپوزیشن نے اختلاف کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے آخری وقت تک بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کی اور صوبے کے 12 اضلاع کے لیے محدود اقدامات کی تجویز بھی زیر بحث آئی تھی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات سے صوبے کے عوام اور سیاسی نمائندوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اپوزیشن ارکان نے ایمرجنسی نامنظور کے نعرے لگائے اور حکومتی فیصلے کے آئینی و سیاسی نتائج پر سوالات اٹھائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اجلاس کے ایک حصے میں شرکت کی۔

آئینی طور پر ایمرجنسی اور گورنر راج کے لیے الگ دفعات اور پارلیمانی طریقہ کار موجود ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی مدت اور اس میں توسیع کی حدود مقرر ہیں۔ اس لیے جمعرات کی توثیق کو غیر معینہ مدت کی منظوری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے بعد صوبائی انتظام، وفاق اور صوبے کے تعلقات، اور سیاسی مذاکرات کے امکانات اہم موضوعات بنے رہیں گے۔