ڈیرہ اسماعیل خان کے رحیم بازار میں واقع تاریخی رام لیلا مندر کی عمارت کو گرانے کا کام مقامی شہریوں اور سول سوسائٹی کی مداخلت کے بعد روک دیا گیا۔ ڈان کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو ڈیرہ سول سوسائٹی کے صدر سہیل احمد اعظمی نے دیگر شہریوں کے ساتھ موقع پر پہنچ کر مسماری کی کارروائی رکوانے میں کردار ادا کیا۔ مندر کو شہر کے تاریخی ورثے کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی عمر تقریباً دو سو سال بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ عمارت ڈیرہ اسماعیل خان کی ان تقریباً چار سو املاک میں شامل بتائی جاتی ہے جنہیں محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھر کی ثقافتی ورثے سے متعلق فہرست میں درج کیا گیا تھا۔ تاہم عمارت کی موجودہ قانونی حیثیت اور تحفظ کی مخصوص شرائط کے بارے میں متعلقہ محکمے کی تازہ دستاویز سامنے آنا ضروری ہے۔ صرف کسی مقامی کارکن کے بیان کی بنیاد پر ملکیت یا تعمیر کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

سہیل احمد اعظمی، جو مقامی تاجروں کی تنظیم سے بھی وابستہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ انہیں صبح اطلاع ملی تھی کہ کچھ افراد مندر کی عمارت گرا کر اس مقام پر تجارتی عمارت تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ شہریوں کے ہمراہ وہاں پہنچے اور کام رکوایا۔ انہوں نے کہا کہ موقع پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ اسے عمارت گرانے کا ٹھیکہ ملا تھا۔ تجارتی پلازے کی تعمیر کا منصوبہ فی الحال مقامی کارکن کا دعویٰ ہے؛ متعلقہ مالک یا انتظامیہ کا تفصیلی مؤقف اس رپورٹ میں موجود نہیں۔

اعظمی کے مطابق چند سال پہلے بھی اس مقام پر تجارتی پلازہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، مگر مقامی رہائشیوں اور تاجروں کی مداخلت کے بعد وہ منصوبہ رک گیا تھا۔ اب متعلقہ حکام سے مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ تاریخی عمارت کو مزید نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکے اور اس کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات طے کیے جائیں۔

یہ واقعہ تاریخی عبادت گاہوں اور قدیم شہری عمارتوں کے تحفظ سے متعلق وسیع تر سوالات سامنے لاتا ہے۔ ایسی عمارتوں کی مرمت، ممکنہ تبدیلی یا انہدام کے بارے میں فیصلے متعلقہ قوانین، ملکیت کے ریکارڈ اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی رائے کے مطابق ہونے چاہییں۔ فوری طور پر مسماری کا رک جانا ایک پیش رفت ہے، لیکن مستقل تحفظ کا انحصار سرکاری ریکارڈ کی تصدیق اور متعلقہ اداروں کی کارروائی پر ہوگا۔