گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے جمعرات 15 اکتوبر کو خطے میں طویل عرصے سے زیر التوا بلدیاتی انتخابات کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے مطابق گلگت، اسکردو اور چلاس کی میونسپل کارپوریشنوں کی نشستوں کے لیے پولنگ 5 دسمبر 2026 کو ہوگی۔ ضلعی کونسلوں، میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کے انتخابات اگلے سال اپریل میں کرانے کا منصوبہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے گلگت بلتستان الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ تفصیلات بتائیں۔
ڈان کے مطابق خطے میں بلدیاتی انتخابات گزشتہ 22 برس سے منعقد نہیں ہوئے۔ گزشتہ سال نئے انتخابات کا اعلان ہوا تھا لیکن موسمی حالات اور مقامی حکومت کے قانون میں ترامیم سمیت مختلف وجوہ کے باعث شیڈول بار بار تبدیل ہوا۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق پہلے فروری 2026 میں پولنگ تجویز کی گئی، پھر موسم سرما کی سختی کے پیش نظر اسے مؤخر کیا گیا۔ بعد میں اگست اور ستمبر کے لیے تیار کیے گئے منصوبے پر بھی عمل نہ ہو سکا کیونکہ صوبائی سطح کی حکومت نے قانونی ترامیم مکمل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا۔
راجہ شہباز خان نے بتایا کہ مقامی حکومت کے قانون میں ضروری تبدیلیاں مکمل ہونے کے بعد انتخابات کے لیے راستہ ہموار ہوا ہے۔ ترمیم شدہ نظام میں بلدیاتی اداروں کی اقسام کو کم کر کے چار بنیادی درجوں، یعنی ضلعی کونسل، یونین کونسل، میونسپل کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن، تک محدود کیا گیا ہے۔ نئی ترتیب کے تحت آزاد امیدواروں کو بھی حصہ لینے کی اجازت ہوگی، جبکہ مقامی اداروں میں خواتین کے لیے 17 فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
گلگت، اسکردو اور چلاس کی میونسپل کارپوریشنوں میں منتخب ارکان بعد میں میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کریں گے۔ دوسری جانب ضلعی کونسلوں، یونین کونسلوں اور میونسپل کمیٹیوں میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کا نظام ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ سات اضلاع اور دور دراز علاقوں میں سخت سردی اور برف باری کے خدشات کی وجہ سے انتخابات اپریل میں رکھے گئے ہیں۔
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے عوامی نوٹس 24 اکتوبر کو جاری ہوں گے اور کاغذات نامزدگی 26 سے 29 اکتوبر کے دوران جمع کرائے جا سکیں گے۔ یہ تاریخیں الیکشن کمیشن کا اعلان کردہ پروگرام ہیں، جبکہ ووٹنگ اور انتخابی نتائج مستقبل کے مراحل ہیں۔ طویل تعطل کے بعد مقامی نمائندگی کی بحالی شہری خدمات، بلدیاتی فیصلوں اور عوامی جواب دہی کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
