کراچی میں ایک 40 روزہ شیر خوار بچے میں ایم پاکس کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد سندھ میں رواں سال رپورٹ ہونے والے اس مرض کے کیسز کی تعداد 94 تک پہنچ گئی۔ روزنامہ ڈان کی 15 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق بچے کے والدین لانڈھی کے رہائشی ہیں اور وہ سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں زیر علاج ہے۔ یہ شہر میں شیر خوار بچے کے متاثر ہونے کا رپورٹ کردہ پہلا معاملہ بتایا گیا ہے۔

اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بچے کو ابتدائی طور پر چند روز پہلے لانڈھی کے ایک کلینک میں دکھایا گیا تھا۔ بعد میں بخار اور جسم پر دانے نکلنے کی علامات سامنے آئیں۔ والدین اسے کورنگی کے ایک اسپتال لے گئے جہاں سے مزید علاج کے لیے متعدی امراض کے مخصوص اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق رپورٹ کے وقت بچے کی حالت مستحکم تھی، اگرچہ وہ بے چین تھا۔

ڈان کی رپورٹ میں اسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس مرکز میں رواں سال ایم پاکس کے 23 مریض سامنے آئے، جن میں تازہ کیس بھی شامل ہے۔ سندھ کی صوبائی نگرانی اور ردعمل کی اکائی کے پہلے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں مرض کی تقسیم مختلف اضلاع میں غیر یکساں رہی۔ کراچی میں 28، خیرپور میں 22 اور سکھر میں نو کیس رپورٹ کیے گئے تھے۔ مختلف تاریخوں کے اعدادوشمار میں فرق ہو سکتا ہے، اس لیے ہر تعداد کو اس کے متعلقہ وقت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

اسپتال ذرائع نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں دو ایسے مریض بھی فوت ہوئے جو ایم پاکس کے ساتھ دیگر سنگین دیرینہ بیماریوں میں مبتلا تھے۔ تاہم اسپتال کے ریکارڈ میں ان کی اموات کی وجہ ان بنیادی بیماریوں کو قرار دیا گیا، نہ کہ لازماً ایم پاکس کو۔ صوبائی نگرانی کی اکائی کی جانب سے اس ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے اعدادوشمار میں ایم پاکس سے متعلق 11 اموات کا ذکر تھا۔ ان اعداد کے درمیان طبی اور رپورٹنگ کی تعریفوں کا فرق واضح کیے بغیر انہیں یکساں شمار نہیں کرنا چاہیے۔

شیر خوار بچے میں تشخیص صحت عامہ کے لیے اہم اطلاع ہے کیونکہ اس عمر میں علامات اور علاج کی نگرانی خاص احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے۔ مریض کی شناخت اور اہل خانہ کی رازداری کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ دستیاب رپورٹ میں مرض کے پھیلاؤ کے کسی نئے ذریعہ یا مخصوص شخص سے منتقلی کی تصدیق نہیں کی گئی، لہٰذا ایسے دعوے کرنا مناسب نہیں۔ طبی عملہ بچے کی حالت کی نگرانی کر رہا ہے اور متعلقہ حکام کے لیے کیسز کی درست نگرانی اور عوام تک مصدقہ معلومات پہنچانا اہم ہوگا۔