پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات 15 اکتوبر کو ایک نجی اسکول کی عمارت کا حصہ گرنے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام اور اسپتال کے نمائندے کے حوالے سے بتایا کہ الخیر اسکول میں چھت گرنے کے نتیجے میں 34 بچے اور ایک استاد جاں بحق ہوئے، جبکہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ ابتدائی گھنٹوں میں مختلف اداروں کی جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد مختلف رہی؛ اس لیے یہ اعداد خبر کی تازہ دستیاب رپورٹ سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔
حادثہ آفریدی آباد کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب دوسری اور تیسری جماعت کے بچے کلاسوں میں موجود تھے۔ امدادی ادارے کے مطابق دو کلاس رومز کی چھتیں گرنے سے طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور مقامی افراد موقع پر پہنچے اور ملبہ ہٹانے اور متاثرین کو اسپتال منتقل کرنے کی کارروائیاں شروع کیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ زخمی بچوں میں بعض کی حالت تشویش ناک تھی۔ ضلعی انتظامیہ نے بعد میں کہا کہ ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے اور امدادی کارروائی مکمل ہو گئی ہے۔ ابتدائی اطلاع میں متاثرین کی تعداد کم بتائی گئی تھی، تاہم بعد کی رپورٹس میں ہلاکتوں میں اضافہ سامنے آیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی افسوس کا اظہار کیا اور حادثے کی وجوہ جاننے اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے جامع تحقیقات پر زور دیا۔ صوبائی پولیس کے سربراہ نے امدادی کام کی نگرانی اور ایمبولینسوں کی آمدورفت آسان بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
اس حادثے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کی مضبوطی، تعمیراتی نگرانی اور بچوں کی حفاظت کے انتظامات کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم چھت گرنے کی حتمی وجہ کسی باقاعدہ تحقیق کے نتیجے کے بغیر متعین نہیں کی جا سکتی۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری طبی اور انتظامی معاونت کے ساتھ ساتھ واقعے کی شفاف تحقیقات اہم ہوں گی تاکہ ذمہ داری کا تعین حقائق کی بنیاد پر کیا جا سکے۔
