مسلسل اپ ڈیٹس

پاکستان: بچوں کے آن لائن جنسی استحصال اور بدسلوکی — 2026

یونیسیف، انٹرپول اور ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل کی ستمبر 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق 'Disrupting Harm in Pakistan' کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 تا 17 سال کے قریباً 15 لاکھ بچوں نے ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کیا۔ تحقیق میں غیر مطلوب جنسی پیغامات یا تصاویر، ذاتی تصاویر کا مطالبہ، اجازت کے بغیر تصاویر پھیلانا اور دھمکی/بلیک میلنگ جیسی صورتیں شامل ہیں؛ سروے کے مطابق متاثرہ واقعات میں 85 فیصد میں مبینہ طور پر ملوث شخص بچے کی جان پہچان کا تھا اور 44 فیصد میں سوشل میڈیا کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ نے شکایت درج کرانے کی راہ میں خوف، سماجی بدنامی اور گھر میں منفی ردعمل کو نمایاں کیا؛ سروے میں آدھے سے زائد متاثرہ بچوں نے کسی کو بتایا بھی نہیں اور شامل متاثرین نے ہیلپ لائن، سماجی کارکن یا پولیس کو باقاعدہ طور پر اطلاع نہیں دی۔ تحقیق بچوں کی تفتیش، قانونی تحفظ اور متاثرین کی معاونت کے نظام میں خامیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے اور روک تھام، محفوظ شکایت کے طریقے، ماہر تفتیش اور باوقار معاونت کے نفاذ کی سفارش کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی بچوں کے خلاف تشدد کی خصوصی نمائندہ نے اپنی جنرل اسمبلی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت، سائبر بُلنگ اور جعلی تصاویر جیسے نئے خطروں کا ذکر کیا، تاہم شائع شدہ رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ یہ عالمی عوامل پاکستانی سروے کے ہر واقعے کی براہِ راست وجہ ثابت نہیں ہوتے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

پاکستان: بچوں کے آن لائن جنسی استحصال اور بدسلوکی — 2026 | اردو ہیڈ لائنز