اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق نئی تحقیق نے تشویش ناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ ڈان کی 14 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف، انٹرپول اور ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل کی ستمبر 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق 'ڈس رپٹنگ ہارم اِن پاکستان' میں اندازہ لگایا گیا کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً پندرہ لاکھ بچوں نے ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کیا۔ یہ شرح تقریباً ہر سولہ میں سے ایک بچے کے برابر بتائی گئی۔

تحقیق میں غیر مطلوب جنسی نوعیت کے پیغامات یا تصاویر، ذاتی تصاویر کا مطالبہ، اجازت کے بغیر تصاویر پھیلانا اور دھمکی یا بلیک میلنگ جیسی صورتیں شامل کی گئیں۔ ان نتائج کو پورے ملک کے تمام بچوں کے لیے براہ راست شمار نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بیان کردہ تخمینہ مخصوص عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں سے متعلق ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کی جانب سے بتائے گئے 85 فیصد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث شخص ان کی جان پہچان کا تھا۔ اس سے یہ عام تصور چیلنج ہوتا ہے کہ آن لائن بدسلوکی کا خطرہ صرف اجنبیوں سے ہوتا ہے۔ رپورٹ شدہ واقعات میں سوشل میڈیا کا حصہ 44 فیصد بتایا گیا۔ یہ اعداد متاثرہ بچوں کے بیانات اور تحقیق کی تعریفوں کے مطابق ہیں، کسی ایک عدالتی مقدمے میں جرم ثابت ہونے کی شرح نہیں۔

تحقیق نے شکایت درج کرانے کی راہ میں خوف، سماجی بدنامی اور گھر میں منفی ردعمل جیسے عوامل کی نشاندہی کی۔ یونیسیف کے مطابق بدسلوکی کا تجربہ کرنے والے نصف سے زیادہ بچوں نے کسی کو اس بارے میں نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل متاثرہ بچوں میں سے کسی نے ہیلپ لائن، سماجی کارکن یا پولیس جیسے باضابطہ ذریعے کو اطلاع نہیں دی۔ اس صورتحال میں قابل اعتماد، خفیہ اور بچوں کے لیے آسان رپورٹنگ نظام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ نجاة معلا مجید نے جنرل اسمبلی میں پیش کردہ رپورٹ کے موقع پر مصنوعی ذہانت، سائبر بُلنگ اور جعلی تصاویر کے ذریعے پیدا ہونے والے نئے خطرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے دنیا بھر میں جنگ، نقل مکانی، غربت اور موسمی بحران سے بچوں کے تحفظ کو لاحق مشکلات بھی اجاگر کیں۔ تاہم یہ الگ عالمی عوامل پاکستانی سروے کے ہر واقعے کی براہ راست وجہ ثابت نہیں کرتے۔

پاکستانی تحقیق میں بچوں سے متعلق تفتیش، قانونی تحفظ اور متاثرین کی مدد کے نظام میں خامیوں کی بھی نشاندہی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کے فرانزک انٹرویوز ہمیشہ خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں سے کرانے کی قانونی شرط موجود نہیں، جس سے متاثرہ بچے مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ روک تھام کے ساتھ محفوظ شکایت، ماہر تفتیش اور باوقار معاونت کا نظام مضبوط بنایا جائے۔