بنکاک: عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے 12 اکتوبر کو کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری عالمی معیشت کو توانائی کی فراہمی کے جھٹکوں کے باوجود تقریباً تین فیصد کی رفتار سے بڑھنے میں مدد دے رہی ہے۔ انہوں نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے اس سرمایہ کاری کے معاشی فوائد کے ساتھ اس کے سماجی اور افرادی قوت سے متعلق خطرات پر بھی توجہ دلائی۔

جارجیوا کے مطابق مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ نظام اور متعلقہ سامان کی طلب نئی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو تحریک دے رہی ہے۔ اس کا فائدہ خصوصاً ایشیا کی ان معیشتوں کو پہنچ سکتا ہے جو ٹیکنالوجی کے بنیادی آلات اور ہارڈویئر کی تیاری یا فراہمی میں حصہ لیتی ہیں۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ترقی یافتہ ایشیائی معیشتوں میں مصنوعی ذہانت سے شرح نمو میں نصف سے ایک فیصد پوائنٹ تک اضافہ ممکن ہے۔

ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتوں کے لیے انہوں نے صفر اعشاریہ دو سے صفر اعشاریہ آٹھ فیصد پوائنٹ تک ممکنہ اضافے کا ذکر کیا۔ یہ اعداد مستقبل کے ممکنہ اثرات کے تخمینے ہیں، نہ کہ ہر ملک میں پہلے ہی حاصل ہونے والی ترقی کے مصدقہ نتائج۔ آئی ایم ایف نے جولائی میں 2026 کے لیے عالمی شرح نمو تین فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی اور ادارے کی نئی پیش گوئی اگلے روز جاری ہونا طے تھی۔

آئی ایم ایف کی سربراہ نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی تبدیلی محض اقتصادی نمو کا معاملہ نہیں۔ ان کے مطابق اس سے ملازمتوں کی نوعیت، کارکنوں کی مطلوبہ مہارتیں، تعلیمی نظام اور حکومتوں کے ٹیکس وصول کرنے کے طریقے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ادارے کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتیں وقت کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے کسی نہ کسی انداز میں تبدیل، کم درجے کی یا ختم ہوسکتی ہیں، جبکہ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ تناسب 60 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے اسی موقع پر ترقی پذیر ممالک میں نسبتاً چھوٹے اور عملی مصنوعی ذہانت کے حل استعمال کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کے مطابق ایسے آلات کسانوں، صحت کے نظام اور تعلیمی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ سنگاپور کے صدر تھرمن شنموگرتنم نے نوجوانوں کے لیے ابتدائی ملازمتوں کے مواقع اور مختلف معیشتوں کے درمیان بڑھتے فرق پر تشویش ظاہر کی۔

یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے فوائد کے ساتھ نئی مہارتوں کی تربیت اور کارکنوں کے تحفظ کے اقدامات کی ضرورت بھی بڑھے گی۔ تاہم کسی ملک کے لیے اصل فائدہ اس کی سرمایہ کاری، ادارہ جاتی تیاری اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر منحصر ہوگا۔