واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال، خصوصاً سائبر حملوں کے شعبے میں، آنے والے ایک سال کے دوران نمایاں خطرات پیدا کرسکتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو اتوار 11 اکتوبر کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فوری تشویش مصنوعی ذہانت کے خود بخود قابو سے نکل جانے کی نہیں بلکہ ایسے افراد کی ہے جو جدید ماڈلز سے حفاظتی پابندیاں ہٹا کر انہیں نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

بل گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کی طاقتور صلاحیتیں اور مناسب حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں منفی نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ اس خطرے کی سب سے واضح شکل اگلے بارہ ماہ کے دوران ڈیجیٹل حملوں میں نظر آسکتی ہے۔ یہ ان کی پیش گوئی اور تشخیص ہے؛ رپورٹ میں کسی مخصوص مستقبل کے حملے کی تصدیق یا تاریخ نہیں بتائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ طویل مدت میں جدید نظاموں پر انسانی کنٹرول سے متعلق سوالات بھی اہم ہیں، تاہم فوری توجہ ایسے استعمال پر ہونی چاہیے جہاں بدنیت عناصر موجودہ ٹولز اور ماڈلز کی مدد سے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے بقول حفاظتی بندشوں کو ہٹانے کی گنجائش خطرات بڑھاتی ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ واضح پابندیوں اور نگرانی کے طریقوں پر کام کیا جائے۔

گیٹس نے حیاتیاتی دہشت گردی اور سائبر حملوں جیسے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال کا ذکر کیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صرف رضاکارانہ یا خود ساختہ ضابطہ کاری کو کافی نہ سمجھنے کا مؤقف بھی اختیار کیا۔ اس بحث میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ صارفین کی قانونی اور مفید سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر نقصان دہ استعمال کی روک تھام کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

اے ایف پی کے مطابق بل گیٹس اس سے پہلے اگست میں بھی مصنوعی ذہانت کے معاشرتی اثرات، خاص طور پر روزگار اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے لیے دنیا کی تیاری پر تشویش ظاہر کرچکے ہیں۔ اتوار کے انٹرویو میں تاہم ان کی فوری ترجیح سائبر خطرات تھے۔

گیٹس کے بیان کو کسی سرکاری ادارے کے نئے قواعد، پابندی کے نفاذ یا سائبر حملے کے وقوع پذیر ہونے کی اطلاع سمجھنا درست نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کے ایک نمایاں کاروباری اور فلاحی شخصیت کی جانب سے پالیسی اور تحفظ سے متعلق عوامی انتباہ ہے۔ ڈان میں 12 اکتوبر 2026 کو شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق انٹرویو میں آئندہ سال سائبر حملوں کے حوالے سے غیر متوقع منفی واقعات کے امکان پر زور دیا گیا۔