لندن: مصنوعی ذہانت کی بین الاقوامی نگرانی اور حفاظتی جانچ کے معاملے پر امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے حوالے سے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے 11 اکتوبر 2026 کو برطانوی اخبار ٹیلیگراف کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی اے آئی کمپنیوں کو اپنے نئے ماڈلز برطانوی حکام کے ساتھ پیشگی جانچ کے لیے شیئر کرنے سے روکنے یا اس کی حوصلہ شکنی کرنے والے سابقہ مؤقف میں تبدیلی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی برطانیہ کے اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ امریکی کمپنیوں کے ممکنہ تعاون کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اس ادارے کا مقصد جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی صلاحیتوں، ممکنہ غلط استعمال اور ان سے پیدا ہونے والے حفاظتی خطرات کا جائزہ لینا ہے۔ تاہم روئٹرز نے واضح کیا کہ پیش رفت کی اطلاع ٹیلیگراف نے دی ہے؛ امریکی حکومت یا متعلقہ کمپنیوں سے اس کی آزاد اور حتمی توثیق کا بیان فوری طور پر سامنے نہیں آیا تھا۔
برطانیہ نے مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق 2023 میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے بعد ماڈلز کی جانچ کے لیے ایک مخصوص ادارہ قائم کیا تھا۔ ایسے اداروں میں ماہرین نئے ماڈلز کی ممکنہ صلاحیتوں اور استعمال کے خطرات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ تکنیکی ترقی کے ساتھ حفاظتی طریقہ کار بھی بہتر کیا جا سکے۔ کسی نئے ماڈل کی پیشگی جانچ اور اس کی تجارتی عوامی دستیابی دو الگ مراحل ہیں۔
خبر میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی امریکی کمپنیوں کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ جدید عمومی مقصد کے اے آئی ماڈلز کی تیاری میں ان کا نمایاں کردار ہے۔ رپورٹ کے مطابق پالیسی میں تبدیلی سے برطانوی جانچ کاروں کے ساتھ ان کے کام کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، لیکن اس سے خودبخود یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ کسی مخصوص کمپنی نے ماڈل فراہم کر دیا یا کسی جانچ کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔
امریکا میں اے آئی کے ضابطوں پر بحث کے دوران جدت اور حفاظتی نگرانی کے درمیان توازن ایک اہم سوال رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا عمومی مؤقف ماضی میں لازمی ضابطوں کے معاملے میں محتاط رہا، تاہم اب اعلیٰ صلاحیت کے ماڈلز سے متعلق سکیورٹی واقعات کی رپورٹنگ اور نگرانی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ پس منظر برطانیہ کے ساتھ ممکنہ تعاون کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ترجمانوں سے رپورٹ پر فوری تبصرہ حاصل نہیں ہوا۔ اس لیے اس اطلاع کو برطانوی اخبار سے منسوب پیش رفت ہی سمجھنا چاہیے، نہ کہ دونوں ملکوں کی جانب سے مکمل طور پر اعلان کردہ دوطرفہ معاہدہ۔ اگر متعلقہ حکومتیں تفصیلی ضوابط جاری کرتی ہیں تو اس کے بعد ماڈلز کے اشتراک، جانچ کے دائرے اور ذمہ داریوں کی صورت حال زیادہ واضح ہو سکے گی۔
یہ معاملہ اس وسیع سوال کی مثال بھی ہے کہ مختلف ممالک میں تیار کردہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی حفاظتی جانچ کس کے ذریعے اور کس مرحلے پر کی جائے۔ بین الاقوامی تعاون میں پیش رفت سے تحقیق اور رسک مینجمنٹ کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، البتہ اس کے حقیقی اثرات آئندہ سرکاری اعلانات اور کمپنیوں کے عملی اقدامات پر منحصر ہوں گے۔

