اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 10 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں دانش آئی ٹی پارک کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس سہولت کو نیشنل ٹیکنالوجی پارک بھی کہا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے کا اصل مقصد محض ایک نئی عمارت بنانا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق، ہنرمندی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں نوجوانوں اور اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے مواقع ملیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ پارک میں انکیوبیشن سینٹرز، اختراعی مراکز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، نئے کاروباری منصوبے اور بڑی صنعتوں کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کے درمیان تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی سہولت نوجوانوں کی مہارت بڑھانے اور کاروباری مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے کی بنیاد 2017 اور 2018 کے دوران رکھی گئی تھی، تاہم بعد کے برسوں میں اسے مختلف مشکلات کا سامنا رہا۔ انہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ منصوبے کو فعال بنانے کے لیے شفاف بولی کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامی معاملات بین الاقوامی معیار کے طریقہ کار کے مطابق چلائے جائیں اور غیر ضروری حکومتی مداخلت سے گریز کیا جائے۔

تقریب میں جنوبی کوریا کے تعاون کا ذکر بھی کیا گیا۔ وزیراعظم نے کوریائی حکومت اور سفیر کی معاونت کی تعریف کی اور کوریا کی صنعتی ترقی کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب اسلام آباد کا یہ پارک مکمل طور پر فعال ہوگا تو ملک کے دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے مراکز قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ وزیراعظم نے صنعت، زراعت، کان کنی اور معدنیات جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت پر بھی بات کی۔

اس اعلان کے ساتھ ایک اہم فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: افتتاح کا انعقاد اور منصوبے کا مکمل عملی استعداد کے ساتھ چلنا ایک ہی مرحلہ نہیں۔ وزیراعظم نے خود مستقبل میں اسے مکمل طور پر فعال بنانے اور کمپنیوں کی شمولیت کی بات کی۔ اس لیے نئی ملازمتوں، برآمدات یا سرمایہ کاری کی مخصوص تعداد کے نتائج کو ابھی حاصل شدہ کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان اہداف کی پیش رفت کا اندازہ آنے والے عرصے میں پارک کے انتظام، اداروں کی شرکت اور نوجوانوں کے لیے دستیاب عملی سہولتوں سے ہوگا۔