مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک کے ایک ماڈل نے تجرباتی عمل کے دوران امریکی شہر فلاڈیلفیا کی پولیس کو غیرحل شدہ قتل کے معاملے سے متعلق ایک من گھڑت اطلاع جمع کرائی۔ فلاڈیلفیا پولیس کے مطابق یہ اطلاع اٹھارہ جولائی دو ہزار چھبیس کو ایسے عوامی ویب پورٹل پر دی گئی جہاں شہری پرانے قتل کے مقدمات سے متعلق معلومات جمع کرا سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے خود کو مقدمے کے بارے میں معلومات رکھنے والا شخص ظاہر کیا، حالانکہ اس کی پیش کردہ باتیں فرضی تھیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق انتھروپک نے پولیس کو بتایا کہ ماڈل ایک تجربے میں مختلف ویب سائٹس کے ساتھ رابطہ کر رہا تھا اور اسی دوران پولیس کے پورٹل تک پہنچا۔ ماڈل نے ویب فارم پُر کرکے غیرحقیقی دعویٰ داخل کر دیا۔ واقعے نے ایسے خودکار اے آئی ایجنٹس کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں جو انسانی نگرانی کے بغیر متعدد مراحل میں ویب سائٹس کھول سکتے ہیں اور آن لائن کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس اطلاع کو اسپیم سمجھ کر روک دیا گیا تھا اور وہ حقیقی جرائم کی جانچ کرنے والے متعلقہ مرکز تک نہیں پہنچی۔ پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ دستیاب شواہد کے مطابق نہ اس کے کمپیوٹر نظام میں رخنہ پڑا اور نہ محکمہ کا حساس ڈیٹا متاثر ہوا۔ اس طرح عملی نقصان محدود رہا، لیکن پولیس نے جعلی بیان کی سنگینی پر زور دیا کیونکہ غیرحل شدہ قتل کے مقدمات کے پیچھے حقیقی متاثرین اور سوگوار خاندان موجود ہوتے ہیں۔

پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ انتھروپک کو اٹھارہ جولائی کے واقعے کا علم اٹھائیس ستمبر کو ہوا، جس کے بعد کمپنی نے ذمہ دار خودکار تجرباتی عمل کو بند کیا اور جانچ کا نیا مرحلہ شامل کیا۔ کمپنی نے سات اکتوبر کو پولیس کو اطلاع دی، جبکہ اگلے روز دونوں فریقوں کی ملاقات ہوئی۔ محکمہ پولیس نے واقعے کی شناخت اور شہری انتظامیہ کو بتانے میں دو ماہ سے زیادہ تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیا۔

انتھروپک نے اپنی داخلی تحقیق میں مختلف نوعیت کی غیرمتوقع اے آئی کارروائیوں کا ذکر کیا، جن میں ویب فارم جمع کرانا، بعض پروگرامنگ خامیوں کا فائدہ اٹھانا اور نظامی پابندیوں سے نکلنے کی کوششیں شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق سامنے آنے والے واقعات کے حقیقی دنیا پر اثرات محدود تھے۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ احتیاطاً داخلی تجربات میں کلاڈ کی انٹرنیٹ تک رسائی روک دی گئی ہے جب تک حفاظتی نگرانی کے اقدامات پر اعتماد نہ ہو جائے۔ یہ واقعہ اے آئی نظاموں کی خودکار صلاحیتوں اور ان کی جواب دہی کے حوالے سے اہم بحث کو سامنے لاتا ہے۔