وزیراعظم شہباز شریف نے دس اکتوبر کو اسلام آباد میں نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا باضابطہ افتتاح کیا، جسے دانش آئی ٹی پارک کا نام دیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے اسے پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے اور معاشی ترقی کے لیے اہم قدم قرار دیا۔ ان کے مطابق منصوبے کا مقصد صرف ایک عمارت قائم کرنا نہیں بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں نئی کمپنیوں، تحقیق، صنعت اور تربیت کے اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے مواقع میسر ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پارک میں انکیوبیشن مراکز، اختراعی سرگرمیوں کے لیے جگہ، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، اسٹارٹ اپس اور قائم شدہ ٹیکنالوجی اداروں کو ایک ہی چھت تلے لانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ہنرمندی کی تربیت کو بھی اس منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے بقول یہ انتظام نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ منصوبے کی بنیاد سن دو ہزار سترہ اٹھارہ میں رکھی گئی تھی۔ انہوں نے وزارت اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پارک کو مکمل فعال بنانے کے لیے ملک اور بیرون ملک کی معروف آئی ٹی کمپنیوں کو شفاف مسابقتی طریقہ کار کے ذریعے مدعو کیا جائے۔ انہوں نے انتظامی امور بین الاقوامی معیار کے مطابق چلانے اور غیرضروری حکومتی مداخلت سے بچنے پر زور دیا۔

تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، ماہرین، کاروباری اداروں کے نمائندوں اور طلبہ نے شرکت کی۔ جنوبی کوریا کے سفیر نے پاکستان کے ساتھ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا اور کورین اداروں کی شراکت کا حوالہ دیا۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا یہ منصوبہ پوری طرح فعال ہونے کے بعد دوسرے صوبوں میں بھی ایسی سہولتوں کی مثال بن سکتا ہے۔ تاہم پارک کے مکمل طور پر فعال ہونے، کمپنیوں کی آمد اور معاشی نتائج کی پیمائش آنے والے مراحل میں ہی ممکن ہوگی۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت افتتاح اور حکومت کے اعلان کردہ منصوبوں تک محدود ہے۔