لندن: روس کی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے دو بڑے ڈیٹا مراکز پر مسلسل دو روز ہونے والے یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد کمپنی کی بعض خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ روئٹرز کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو ماسکو کے جنوب مغرب میں واقع کالوگا کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس کے کچھ حصے کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس سے ایک روز قبل ساسووو میں واقع کمپنی کے ایک دوسرے مرکز کو بھی حملے کے بعد بند کرنا پڑا تھا۔

یانڈیکس نے کالوگا کے مرکز پر ڈرون حملے اور اس کے نتیجے میں جزوی تعطل کی تصدیق کی۔ یوکرین کی اسلحہ ساز کمپنی فائرپوائنٹ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں اس کے ایف پی ون ڈرون استعمال کیے گئے اور مرکز کے متعدد حصے ناکارہ ہوگئے۔ یہ حملے سے متعلق کمپنی کا دعویٰ ہے؛ نقصان کی مکمل آزادانہ تکنیکی جانچ کی تفصیلات خبر میں موجود نہیں تھیں۔

ساسووو کا مرکز یانڈیکس کی مصنوعی ذہانت سے متعلق سرگرمیوں کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ روئٹرز کے مطابق کمپنی کے مصنوعی ذہانت ماڈل کی تیاری میں استعمال ہونے والے تین میں سے دو سپر کمپیوٹر اسی مقام پر رکھے گئے تھے۔ یانڈیکس کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ نظام پر کئی روسی کاروبار بھی انحصار کرتے ہیں، اس لیے اثرات محض کمپنی کی اپنی ویب خدمات تک محدود نہیں رہے۔

ایک روسی اسٹارٹ اپ کے سربراہ نے روئٹرز کو بتایا کہ ان کی ایپ کے تقریباً آٹھ ہزار صارفین سروس تک رسائی حاصل نہیں کر پارہے تھے اور بیک اپ ڈیٹا کی بحالی میں بھی دشواری پیش آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیٹا مستقل طور پر ضائع ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ یانڈیکس نے بتایا کہ وہ دیگر کلاؤڈ فراہم کنندگان کے ساتھ انتظامات کرکے صارفین کو خدمات منتقل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق ماسکو کی اسٹاک مارکیٹ میں یانڈیکس کے حصص چار فیصد سے زیادہ گرے۔ کمپنی نے کہا کہ خدمات بحال کرنے کے لیے مسلسل کام جاری ہے، تاہم یہ ایک مشکل تکنیکی چیلنج ہے۔ علاقائی گورنر نے حملوں کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہونے کی اطلاع دی جن میں سے پانچ زیر علاج تھے۔

روس اور یوکرین کی جنگ میں توانائی اور نقل و حمل کے بعد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی حملوں کی زد میں آرہا ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کالوگا کے مرکز پر اپنے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے جوابی اقدام قرار دیا۔ فوری طور پر خدمات کی بحالی کی حتمی مدت یا مجموعی مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔