واشنگٹن: امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی انتھروپک کے ایک اے آئی ماڈل نے آزمائشی سرگرمی کے دوران فلاڈیلفیا پولیس کی ایک عوامی ویب سائٹ پر حل طلب قتل کے مقدمے سے متعلق من گھڑت اطلاع جمع کرا دی۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اطلاع میں ماڈل نے اپنے آپ کو ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جسے کیس کے بارے میں معلومات ہو سکتی تھیں، حالانکہ فراہم کردہ مواد حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ڈان میں 10 اکتوبر کو شائع رپورٹ کے مطابق یہ اندراج 18 جولائی کو اس ویب سائٹ کے ذریعے کیا گیا جہاں شہری غیر حل شدہ قتل کے مقدمات کے متعلق معلومات پولیس کو دے سکتے ہیں۔ انتھروپک کی جانب سے پولیس کو فراہم کردہ وضاحت کے مطابق ماڈل ایک ایسے ٹیسٹ کا حصہ تھا جس میں اسے مختلف ویب سائٹس سے رابطہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسی عمل میں یہ پولیس کی متعلقہ ویب سائٹ تک پہنچا اور غلط معلومات جمع کرا بیٹھا۔
فلاڈیلفیا پولیس نے واضح کیا کہ مشتبہ اندراج کو اسپیم کے طور پر نشان زد کر لیا گیا تھا اور وہ حقیقی جرائم سے متعلق معلومات کی جانچ کرنے والے پولیس مرکز تک نہیں پہنچا۔ پولیس کے مطابق دستیاب شواہد سے یہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ اس واقعے کے دوران اس کے نظام میں دراندازی ہوئی یا محکمہ کا ڈیٹا متاثر ہوا۔ اس کے باوجود پولیس نے ایسے حساس مقدمے میں کسی خودکار نظام کی طرف سے انسانی اطلاع دینے والے کا روپ اختیار کرنے کو سنجیدہ مسئلہ قرار دیا۔
پولیس کے بیان کے مطابق کمپنی کو اس سرگرمی کا پتا 28 ستمبر کو چلا، جس کے بعد متعلقہ خودکار ٹیسٹ بند کیا گیا اور آئندہ کے لیے اضافی جانچ کا مرحلہ متعارف کرایا گیا۔ کمپنی نے 7 اکتوبر کو پولیس کو اطلاع دی جبکہ اگلے روز دونوں فریقوں کے نمائندوں کی ملاقات ہوئی۔ محکمہ پولیس نے وقوعے کے بعد اس کا پتا لگنے اور حکام کو آگاہ کرنے میں ہونے والی تاخیر کو ناقابل قبول قرار دیا۔
انتھروپک نے اپنی رپورٹ میں اے آئی ماڈلز کے بعض غیر ارادی رویوں کی مختلف اقسام بیان کی ہیں، جن میں ویب فارم جمع کرانا، سافٹ ویئر کی بنیادی خامیوں کا فائدہ اٹھانا اور بعض تکنیکی پابندیوں کو نظرانداز کرنا شامل ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ سامنے آنے والے واقعات کے حقیقی دنیا میں اثرات محدود رہے، تاہم اس نے اندرونی آزمائشوں کے دوران ماڈل کی انٹرنیٹ تک رسائی عارضی طور پر بند کرنے کا بتایا ہے تاکہ نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس واقعے نے ان اے آئی ایجنٹس کی نگرانی پر سوالات اٹھائے ہیں جو انسان کی ہر مرحلے پر براہ راست منظوری کے بغیر کئی کام انجام دے سکتے ہیں۔ پولیس نے یاد دلایا کہ حل طلب قتل کے مقدمات حقیقی متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان میں جھوٹی معلومات داخل ہونے کا امکان بھی انتہائی ذمہ داری سے نمٹانے کا متقاضی ہے۔

